صنعتی کنکشن کے بقایاجات کی وصولی کیلئے گھریلو میٹر منقطع کرنا غیر قانونی قرار
08-24-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے صنعتی کنکشن کے بقایاجات کی وصولی کے لیے الگ گھریلو بجلی کنکشن منقطع کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیدیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان کے بھائی غازی خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران درخواست نمٹاتے ہوئے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ درخواست کو نمائندگی تصور کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین، بالخصوص درخواست گزار کو مناسب سماعت کا موقع فراہم کیا جائے اور قانون کے مطابق وجوہات پر مبنی حکم جاری کیا جائے۔ عدالت نے یہ معاملہ دو ہفتوں کے اندر نمٹانے کی ہدایت بھی کی، درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس کا رہائشی بجلی کنکشن الگ ہے، اس کا اپنا میٹر، ریفرنس نمبر، بلنگ ریکارڈ اور ادائیگی کی تاریخ موجود ہے جبکہ مبینہ واجبات ایم/ایس سپیریئر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کے الگ صنعتی کنکشن سے متعلق ہیں۔ وکیل کے مطابق درخواست گزار اپنے گھریلو کنکشن کے تمام بل باقاعدگی سے ادا کر رہا ہے، اس لیے صنعتی کنکشن کے مبینہ واجبات اس کے رہائشی کنکشن پر عائد نہیں کیے جا سکتے، بجلی ایکٹ 1910ء کی دفعہ 24 کے تحت بجلی منقطع کرنے سے پہلے قانونی تقاضے پورے کرنا اور مقررہ نوٹس جاری کرنا لازمی ہے، درخواست گزار کے رہائشی کنکشن کے حوالے سے نہ کوئی واجب الادا رقم موجود ہے اور نہ ہی اسے بجلی منقطع کرنے کا کوئی قانونی نوٹس جاری کیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایک الگ صارف کے واجبات کی وصولی کے لیے دوسرے مقام پر موجود بجلی کا کنکشن منقطع نہیں کیا جا سکتا، خواہ دونوں کنکشنز کا تعلق ایک ہی شخص سے کیوں نہ ہو۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ بغیر نوٹس اور قانونی طریقہ کار کے بجلی منقطع کرنا غیر قانونی ہے اور کسی شہری کو سنے بغیر اس کے بجلی کے میٹر کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی، درخواست گزار کے مطابق صنعتی کنکشن کے واجبات بھی متنازعہ ہیں اور ان کے حوالے سے متعلقہ فورم پر کارروائی جاری ہے، لہٰذا انہیں حتمی یا تسلیم شدہ واجبات تصور کرتے ہوئے ایک الگ رہائشی کنکشن کے خلاف جبری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ صنعتی واجبات کی وصولی کے لیے گھریلو بجلی منقطع کرنے کی دھمکیاں اختیارات کے غیر قانونی اور جبری استعمال کے مترادف ہیں، بجلی بنیادی ضرورتِ زندگی ہے اور آئین کے آرٹیکل نو کے تحت حقِ زندگی سے اس کا تعلق ہے۔ اس سلسلے میں مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا، جن میں بجلی کی فراہمی کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل چار اور دس اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو قانون کے مطابق برتاؤ اور منصفانہ طریقہ کار کا حق حاصل ہے، جبکہ کسی زیرِ سماعت معاملے میں قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر کارروائی سے اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جسٹس جواد حسن نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی استدعا پر متعلقہ حکام کو معاملہ دوبارہ دیکھنے کا موقع دیا جانا مناسب ہے، عدالت نے درخواست اور اس کے ساتھ منسلک دستاویزات متعلقہ جواب دہندہ نمبر دو کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اسے درخواست گزار کی نمائندگی تصور کرتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرے اور عدالتی فیصلوں کو بھی مدنظر رکھے۔ عدالت نے عبوری طور پر متعلقہ حکام کو درخواست گزار کے خلاف کسی بھی جبری اقدام سے روک دیا ہے، یہ پابندی درخواست گزار کی نمائندگی پر فیصلہ ہونے تک برقرار رہے گی، بعد ازاں عدالت نے درخواست نمٹا دی اور حکم کی نقل معمول کی فیس کی ادائیگی پر درخواست گزار کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔