سرکاری نرخ نامہ نظر انداز، مہنگے پھل سستے نہ ہو سکے

08-23-2026

(لاہور نیوز) سرکاری ریٹ لسٹ میں چند کے نرخ بڑھا دیے گئے، تاہم سرکاری نرخ نامے کے برعکس بیشتر پھل پرچون بازاروں میں مہنگے داموں فروخت ہونے لگے۔

پوش علاقوں میں درجہ اول کے پھلوں کے منہ مانگے دام وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ پسماندہ علاقوں میں مکس درجوں کے پھل بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہو گئے ہیں۔ مہنگے پھل غریب اور متوسط طبقے کے لیے خواب بنتے جا رہے ہیں۔ سیب گاچہ اسپیشل کی سرکاری قیمت 300 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں درجہ اول کا سیب 440 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ کیلا درجہ اول سرکاری ریٹ لسٹ میں 210 روپے فی درجن مقرر ہے جبکہ مارکیٹ میں 240 روپے فی درجن تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ آم چونسہ لیٹ کی سرکاری قیمت 310 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم مارکیٹ میں اس کی قیمت 420 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ آڑو کا سرکاری نرخ 250 روپے فی کلو ہے جبکہ پرچون بازاروں میں 380 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ انگور سندرخانی کی سرکاری قیمت 535 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر پرچون بازاروں میں 900 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ امرود کا سرکاری نرخ 185 روپے فی کلو ہے جبکہ مارکیٹ میں 300 روپے فی کلو تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ پیپتا کی سرکاری قیمت 305 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم پرچون بازاروں میں 400 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ گرما کا سرکاری نرخ 185 روپے فی کلو مقرر ہے جبکہ مارکیٹ میں 250 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ ناشپاتی کے سرکاری نرخ میں 5 روپے اضافہ کرکے قیمت 270 روپے فی کلو مقرر کی گئی، تاہم مارکیٹ میں یہ 320 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ ایرانی کھجور کی سرکاری قیمت 455 روپے فی کلو مقرر ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 540 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی ہے۔