وزیراعظم کی چھوٹے، درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایت
08-22-2026
(لاہور نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی اصلاحات اور شعبے کی ترقی کیلئے حکومت کے پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے چھوٹے و درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، سرٹیفائیڈ کمپنیوں کی جانب سے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فصلوں کی پیداوار کے قومی سطح پر تخمینوں کیلئے جامع پلان مرتب کرنے اور زرعی شعبے کی ترقی کیلئے زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کسان حکومت کی زرعی شعبے میں جدت کی اصلاحات سے بھرپور استفادہ حاصل کریں، چین سے گزشتہ برس زرعی تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے طلباء و طالبات کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ وزیراعظم نے رواں برس چین میں زرعی شعبے کی تربیت کیلئے جانے والے طلباء و طالبات کے انتخاب میں میرٹ و شفافیت کو اولین ترجیح دینے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کی اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے انہیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنا کر بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے زرعی شعبے کی اصلاحات کیلئے اقدامات پر عملدرآمد میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا جبکہ ملک میں گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی پیداوار کے تخمینے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 کے تحت ترجیحی اقدامات پر پیش رفت تیز کردی گئی ہے۔ منصوبے میں کسانوں کو مالی سہولت، زرعی مشینری کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق و استعداد کار میں اضافہ اور غذائی تحفظ سمیت مختلف شعبوں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اہم اقدامات میں کین گراور ری فنانسنگ، فصلوں کی انشورنس، الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید فنانسنگ، فارم مشینری فنانسنگ اور وزیراعظم نیشنل ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی ترجیح دی جارہی ہے، پاکستان ٹوبیکو بورڈ آٹومیشن پراجیکٹ، سپارکو کے ذریعے فصلوں کے جائزے کے پروگرام اور کیڑوں و پودوں کی شناخت کیلئے اے آئی پر مبنی ایپ سمیت مختلف اقدامات پر پیش رفت جاری ہے۔ اجلاس کو ملکی برآمدات اور دیہی آمدن میں اضافے کیلئے آرگینک زراعت کے فروغ کے حوالے سے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے، قومی آرگینک پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن متعارف کرانے اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے پر کام جاری ہے۔ اجلاس کو این اے آر سی کے نئے ماسٹر پلان کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اسے 7 ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ نئے ماسٹر پلان کے تحت پانچ سینٹر آف ایکسیلینس، ریفرنس لیبارٹریاں، بائیو ریپازیٹری، نئے تحقیقی سینٹرز بشمول نجی شعبے کیلئے تحقیقی پارک، بین الاقوامی تعاون کیلئے سینٹر، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک جیسی سہولتیں قائم کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے ماسٹر پلان کی منظوری دیتے ہوئے اسے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، اعظم نذیر تارڑ، رانا تنویر حسین اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر نے شرکت کی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر وزیراعظم محمد علی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔