حکمران نہیں نظام بدلنا ہو گا، نئے صوبوں سے اخراجات کم، گورننس بہتر ہو گی: میاں عامر محمود

08-22-2026

(لاہور نیوز) چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ دنیا کے ہر ملک نے آبادی بڑھنے کے ساتھ انتظامی یونٹس بڑھائے ہیں، نئے صوبے بننے سے خرچے کم ہوں گے، یہ خیال غلط ہے کہ نئے صوبوں سے خرچے بڑھیں گے۔

’میرا صوبہ، میرا نظام‘ کیلئے آگاہی مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے کہا کہ چودھری عبدالرحمان ہمارے نوجوانوں کو درست راستہ دکھا رہے ہیں، دنیا میں تمام میئر، گورنرز ہمیشہ اپنے صوبے اور گورننس کی بات کرتے ہیں۔ چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے کہا کہ پورے پاکستان میں پنجاب کو گالی دی جاتی ہے، دیکھنا ہو گا اس نفرت کی وجہ کیا ہے، پنجاب ہر سال بلوچستان کو اربوں روپے دے رہا ہے، پھر بھی پنجابیوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر بسوں سے اتار کر مارا جاتا ہے۔ میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب کے لوگ تیار ہیں کہ چھوٹے صوبے بنائے جائیں، بلوچستان کے 8 ڈویژن میں صوبے بنیں گے، بلوچستان کے صوبے سب سے زیادہ امیر ہوں گے، چھوٹے صوبوں میں سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہو گا، دوسرے نمبر پر سندھ کے نئے صوبے امیر ہوں گے، آج ہمارے پاس موقع ہے کہ اپنے مستقبل کی بہتری کیلئے قدم اٹھائیں۔ انہوں  نے کہا کہ سندھ میں تھر کے علاقہ میں بہت صلاحیت موجود ہے، پاکستان میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، سکول جانے والے بچوں کی اکثریت پانچویں کلاس کی کتاب نہیں پڑھ سکتے۔ میاں عامر محمود  نے کہا کہ ہم اپنا نظام اپنی جگہ پر لائیں گے، اس ملک کے نوجوان چاہتے ہیں کہ اچھی گورننس ملے، ہمیں بہت امید ہے کہ پاکستان آگے بڑھے گا۔ انہوں  نے یہ بھی کہا کہ وفاق سے جو پیسہ جائے گا اس کا زیادہ فائدہ بلوچستان میں بنے نئے صوبوں کو ہو گا، ہم  نے آج تک صرف کیپیٹل سٹیز پر توجہ رکھی اور انہی کو آباد کیا، پاکستان میں 44فیصد بچوں کی سٹنٹنگ گروتھ ہو رہی ہے، اگر بچوں کی بڑی تعداد کی سٹنٹنگ گروتھ ہو رہی ہے تو ہم  نے اپنا 20 سال بعد کا مستقبل بھی خراب کر لیا ہے۔ چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز  نے بتایا کہ آج تمام صوبوں  نے کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور کےعلاوہ کوئی نیا شہر آباد نہیں کیا، تلاش کر رہا ہوں سکھر کو کراچی سے کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ آج ہمارے پاس بہتری کا موقع ہے، تھر سے کوئلہ نکل رہا ہے اور انڈسٹری لگ رہی ہے۔ انہوں  نے کہا کہ تھر اگر اپنا پورا پوٹینشل دکھائے تو کراچی سے زیادہ امیر صوبہ ہو گا، یہی کوشش ہے کہ ہمارے بچوں کو اچھا مستقبل ملے، بہترین مستقبل اچھی گورننس کے بغیر ممکن نہیں، ہم جس فورم پر آج جمع ہیں یہ روشن مستقبل کی ایک کرن ہے۔ میاں عامر محمود  نے کہا کہ پرائیویٹ سیکڑ سے پہلے اصل ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے، ہمارے ملک میں 25.1 ملین بچے سکول نہیں جا رہے، سکول جانے والے 70 فیصد بچے کلاس 5 میں ہیں مگر تیسری جماعت کی کتاب نہیں پڑھ سکتے۔ انہوں  نے بتایا کہ ہمارے ملک میں اچھے حکمران بھی آئے، ہمیں حکمران بدلنے کے بجائے نظام بدلنا ہو گا، میرا صوبہ میرا نظام مہم کو آگے بڑھانا ہو گا، ہمیں اپنی مرضی کا نظام اپنی جگہ، شہر اور صوبے میں لانا ہے، آئندہ نسل کو خوشحال، آگے بڑھتا اور ترقی کرتا پاکستان دے کر جائیں گے۔  تقریب سے  امریکی قونصل جنرل سٹیٹسن سٹینڈرز  نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں اور یہ پاکستان میں بھی ٹیکنالوجی کا استعمال ہو رہا ہے، سی پاکستان ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سٹوڈنٹس کو اپنا فیوچر بنانے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ میں لاہور میں ہوں ،اس ایونٹ میں شرکت کر رہا ہوں، پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں امریکن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پنجاب کے لوگوں کو محفوظ بنایا جا رہا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ ایپل ہیڈ کوارٹر کا آفس بھی پاکستان میں بنائیں گے۔ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ تعلیمی سیکٹر میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے، تعلیمی اداروں کا طلبا کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ہے، ہائرایجوکیشن اس وقت ترجیح ہونی چاہئے۔ پروفیسر نیاز احمد اختر  نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کیلئے بے پناہ مواقع موجود ہیں، گزشتہ 5سال میں نوجوان کی بڑی تعداد  نے اسکالرشپس حاصل کئے، پاکستانی ڈاکٹروں کی بڑی تعداد عالمی سطح پر خدمات انجام دی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن سسٹم نوجوانوں کو تعلیمی مواقع اور اسکالرشپس فراہم کر رہا ہے، نوجوانوں کیلئے پاکستان میں اب بھی مواقع موجود ہیں۔ ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان  نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بہتر گورننس کیلئے ضروری ہیں، میرا صوبہ میرا نظام کیلئے عوام میں آگاہی مہم جاری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں، میاں عامر محمود پاکستان کی بہتری کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔