پنجاب میں جنگلی حیات کا جامع سروے، اڑیال اور ہزاروں پرندوں سمیت متعدد انواع ریکارڈ
08-21-2026
لاہور(سامیا سعید) پنجاب میں پہلی مرتبہ جنگلی حیات اور نباتات کے جامع صوبائی سروے کے ابتدائی نتائج سامنے آگئے۔
سروے کے دوران پنجاب اڑیال کے 5 ہزار 128، چنکارا کے ایک ہزار 276، دریائے سندھ کی ڈولفن کے 540، نیل گائے کے 160، پاڑہ ہرن کے 138 اور کالے ہرن کے 93 جانور ریکارڈ کیے گئے۔ وائلڈ لائف سروے میں سرمئی تیتر کے 92 ہزار 636، کالے تیتر کے 40 ہزار 526، چکور کے 6 ہزار 52 اور تلور کے ایک ہزار 821 پرندے ریکارڈ ہوئے، جبکہ گدھ کے 345 اور کالیج تیتر کے 49 پرندے بھی سروے کا حصہ بنے۔ سروے کے دوران گوہ کے ایک ہزار 70، نرم خول والے کچھوے کے 720، ناگ کے 85، پھورسہ کے 78 اور اجگر کے 22 ریکارڈ سامنے آئے۔ اس کے علاوہ مختلف نباتاتی انواع کی موجودگی بھی ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق پنجاب میں جنگلی حیات اور نباتات کا یہ جامع سروے آئی یو سی این پاکستان اور پنجاب وائلڈ لائف کے اشتراک سے جاری ہے، جس کا باقاعدہ افتتاح اپریل 2025 میں لاہور میں کیا گیا تھا۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 53 کروڑ روپے ہے۔ سروے کا مقصد پنجاب میں جنگلی حیات کی تعداد، جغرافیائی تقسیم اور مسکن کا سائنسی جائزہ لینا ہے۔ سروے کے نتائج کی بنیاد پر ریڈ ڈیٹا بک تیار کی جائے گی، جبکہ وائلڈ لائف سروے کے دوسرے مرحلے کی تیاری بھی جاری ہے۔ انتظامیہ وائلڈ لائف کے مطابق دوسرے مرحلے میں حاصل شدہ ڈیٹا کی مزید تصدیق اور بہتری پر کام کیا جائے گا۔ پاکستان کی پہلی ریڈ ڈیٹا بک کی تیاری کا عمل بھی جاری ہے، جسے 2028 تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔