لاہور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا معاملہ، تحقیقات میں اہم پیشرفت

08-16-2026

(ویب ڈیسک) لاہور میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے معاملے میں دہشت گرد باپ بیٹے کی ہلاکت سے متعلق تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، پولیس نے ایس ایچ او راوی روڈ کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل محافظ سکواڈ نے ریحان بٹ اور طارق کو راوی روڈ سے گرفتار کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریحان بٹ سے اسلحہ برآمد ہونے کے باوجود مبینہ طور پر ایس ایچ او راوی روڈ نے اسے بغیر کارروائی کے چھوڑ دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق طارق کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں مقدمہ خارج ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے ٹارگٹ کلر فیاض کی 21 سالہ بیٹی ماہ نور شہزادی کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ ماہ نور کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ماہ نور شہزادی اسی مدرسے میں زیرِ تعلیم رہی جہاں مبینہ ٹارگٹ کلر فیضان بھی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے ماہ نور کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا فرانزک تجزیہ بھی کروایا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ رابطوں اور دیگر شواہد کا سراغ لگایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران ایک ہی خاندان سے متعلق ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو تحقیقات میں کیس سٹڈی قرار دے کر مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی ادارے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات، مبینہ سہولت کاری، اسلحہ کی فراہمی اور مشتبہ افراد کے باہمی روابط سمیت مختلف پہلوؤں کی چھان بین کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ زیرِ تفتیش افراد کے خلاف الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگی۔