فائرنگ سے شہید پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا، اعلیٰ عسکری و سول حکام کی شرکت
08-14-2026
(لاہور نیوز) لاہور میں فائرنگ کے واقعے میں شہید ہونے والے پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر عدیل عاشق، ہیڈ کانسٹیبل اسد اور کانسٹیبل حارث سلیم کی نماز جنازہ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
نماز جنازہ میں کور کمانڈر لاہور، صوبائی وزیر خزانہ، چیف سیکریٹری پنجاب، سیکرٹری داخلہ پنجاب، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور سمیت عسکری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس کے چاق و چوبند دستے نے اہلکاروں کے جسد خاکی کو سلامی پیش کی، کور کمانڈر لاہور نے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانب سے شہدا کی میتوں پر پھول چڑھائے۔ صوبائی وزیر خزانہ، چیف سیکرٹری پنجاب، ڈی جی رینجرز پنجاب، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور اور دیگر سول و عسکری حکام نے بھی شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ نماز جنازہ کے بعد کور کمانڈر لاہور، آئی جی پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام نے اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی، حکام نے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی فلاح و بہبود کا ہر ممکن خیال رکھا جائے گا۔ پنجاب پولیس کے مطابق تینوں اہلکار گزشتہ شب ریحان بٹ اور اس کے ساتھیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق ریحان بٹ کی جانب سے سب انسپکٹر عدیل عاشق کو پہلے بھی مبینہ طور پر فون پر دھمکیاں دی جاتی رہی تھیں اور ان کی مدعیت میں ملزم کے خلاف مقدمہ بھی درج تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریحان بٹ مبینہ طور پر اپنے بھائی فیضان بٹ کی ہلاکت پر رنجش رکھتا تھا، پولیس کے مطابق فیضان بٹ، جو ایک مبینہ شوٹر تھا، 2024 میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ساتھ ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ حکام کے مطابق ریحان بٹ کا خیال تھا کہ اس کے بھائی کی ہلاکت میں سب انسپکٹر عدیل عاشق کا کردار تھا، جس کی وجہ سے وہ پولیس کے خلاف مخاصمت رکھتا تھا۔ پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ نماز جنازہ کے بعد تینوں اہلکاروں کی میتیں مکمل پولیس پروٹوکول کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کے لیے روانہ کر دی گئیں، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔