52 جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں کابینہ کی منظوری کی منتظر
08-13-2026
(ویب ڈیسک) کابینہ ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کی منظوری کے باوجود 52 اہم اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں تاحال مقرر نہ ہوسکیں۔ وزارت صحت نے قیمتوں کی وفاقی کابینہ سے منظوری کے لیے وزیراعظم سے ملاقات کا وقت مانگ لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات میں وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب شریک ہوں گے، جبکہ وفاقی سیکریٹری صحت اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ بھی موجود ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 52 جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں کابینہ ڈرگ پرائسنگ کمیٹی پہلے ہی منظور کرچکی ہے، تاہم وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر ان ادویات کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاسکتا۔ کابینہ کی منظوری کے بعد ڈریپ ادویات کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتیں مقرر کرے گا۔ وزارت صحت وزیراعظم کی منظوری کے بعد معاملہ وفاقی کابینہ میں پیش کرنا چاہتی ہے، جبکہ ضروری ادویات کے ہارڈ شپ کیسز کی منظوری کے لیے بھی وزیراعظم سے درخواست کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ادویہ ساز کمپنیوں نے موجودہ قیمتوں پر ادویات کی مسلسل سپلائی برقرار رکھنا مشکل قرار دیا ہے، جس کے باعث متعدد ضروری ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتوں کی منظوری کے باوجود درجنوں رجسٹرڈ ادویات مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق ہارڈ شپ کیسز میں انفلوئنزا ویکسین اور کینسر کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والی مارفین بھی شامل ہے۔ کابینہ ڈرگ پرائسنگ کمیٹی نے 24 جولائی کو 52 ادویات کی قیمتیں منظور کی تھیں۔ سینیٹر محمد اورنگزیب کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے ڈریپ ڈرگ پرائسنگ کمیٹی اور پالیسی بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں قیمتوں کی منظوری دی تھی۔ ذرائع کے مطابق 52 ادویات کی فہرست میں کینسر، ذیابیطس اور ہیموفیلیا کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پارکنسنز، خودکار مدافعتی امراض اور خون کے لوتھڑے بننے سے روکنے والی ادویات بھی فہرست کا حصہ ہیں۔فہرست میں سنگین انفیکشنز، انتہائی نگہداشت اور ہنگامی علاج میں استعمال ہونے والی اہم ادویات بھی شامل ہیں۔