مریم نوازحکومت کی پیپر لیس گورننس، 6 ہزار سے زائد سسٹمزمرکزی ڈیجیٹل نظام سے منسلک
08-13-2026
(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس میں صوبے میں پیپر لیس گورننس، آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) فیصل یوسف نے تفصیلی بریفنگ دی، جس پر وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری زاہد زمان اختر، سیکرٹری فنانس مجاہد شیر دل اور چیئرمین PITB فیصل یوسف کو شاباش دی۔ اعلامیے کے مطابق پنجاب اینڈ ٹو اینڈ پیپر لیس اور آٹومیشن ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہوچکا ہے اور صوبے میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ، گورنمنٹ ٹو بزنس اور گورنمنٹ ٹو سٹیزن ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا عمل جاری ہے۔ پنجاب ای فوس، ای پریکیورمنٹ، ای پے، ای آکشن، ون میپ، ایچ آر ایم آئی ایس اور ڈیٹا ویئر ہاؤس قائم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔ صوبہ بھر میں 6 ہزار سے زائد سسٹمز PITB کے مرکزی نظام سے منسلک ہوچکے ہیں جبکہ ای فوس کے ذریعے 600 آرگنائزیشنز اور ادارے ڈیجیٹل طور پر منسلک ہیں۔ ای فائلنگ سسٹم کے ذریعے 176,173 سمری نوٹس اور 9.1 ملین ریکارڈز کے ڈیجیٹل پراسیسنگ کا عمل سامنے آیا ہے۔ سمارٹ مانیٹرنگ آف ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کا نیا معیار قائم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ای پریکیورمنٹ سسٹم سے پنجاب بھر میں 25 ہزار سے زائد سپلائرز منسلک ہیں۔ اس نظام کے ذریعے 6 کھرب روپے کی ڈیجیٹل پرچیز، 1.29 ملین ٹینڈرز اور 1.3 ملین ٹرانزیکشنز ہوچکی ہیں جبکہ 1,137 ملین روپے ریونیو کلیکشن رپورٹ کی گئی ہے۔ ای پریکیورمنٹ کے ذریعے کسی بھی دفتر جائے بغیر اینڈ ٹو اینڈ ٹینڈرنگ کا شفاف نظام فراہم کیا گیا ہے۔ ای آکشن سسٹم کے تحت 3,784 وینڈرز رجسٹرڈ ہوئے جبکہ مختصر مدت میں 527 ارب روپے کی ریونیو جنریشن ہوئی۔ پنجاب گورنمنٹ ڈیٹا ویئر ہاؤس میں 100 فیصد اوپن سورس ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس کے باعث زیرو لائسنسنگ فیس کے ذریعے اربوں روپے کی بچت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ ’’مریم کی دستک‘‘ کے ذریعے 110 سروسز جبکہ ’’ای بز‘‘ کے ذریعے 434 بزنس سروسز دستیاب ہیں۔ ای بز ڈیجیٹل سسٹم کے تحت دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ ای بز کے تحت اپلائی کرنے والے 130,941 درخواست دہندگان میں سے 110,170 افراد کو مطلوبہ دستاویز یا سہولت فراہم کردی گئی۔ ای بز کے ذریعے درخواست دینے پر 15 دن کے اندر سروس فراہم کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ اعتراضات کا جائزہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی لیتی ہے۔ پنجاب حکومت کے مطابق ای بز کے تحت دستیاب 434 سروسز کے لیے کسی بزنس مین کو کسی سرکاری دفتر جانے کی ضرورت نہیں۔ ’’مریم کی دستک‘‘ سروس کے لیے پنجاب بھر میں 9,800 نمائندے سرگرم ہیں۔ سروس کی 10 دن میں ڈلیوری نہ ہونے پر متعلقہ سیکرٹری نوٹس لے گا۔ اعلامیے کے مطابق 110 سروسز کے ذریعے 40 لاکھ سے زائد افراد نے اپلائی کیا جبکہ 31 لاکھ سے زائد شہریوں کو گھر بیٹھے سروسز فراہم کی جاچکی ہیں۔ ویب پورٹل کے ذریعے سب سے زیادہ 26 لاکھ سے زائد شہریوں نے درخواستیں جمع کرائیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس کے دوران ای بز کے تحت پٹرول پمپ اور فلور مل کے این او سی کے اجراء کا طریقہ کار خود چیک کیا اور PITB کو پیپر لیس آٹومیشن سافٹ ویئر امپورٹ کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے درخواست دہندگان سے مسلسل فیڈ بیک لینے کی بھی ہدایت کی۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے اینڈ ٹو اینڈ آٹومیشن اور پیپر لیس سسٹم کارگر ثابت ہوگا۔ عوام کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے سرکاری دفاتر آنے کی زحمت سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹل آٹومیشن سسٹم کے ذریعے شناخت ظاہر کیے بغیر سروسز فراہم کرنے سے کرپٹ عناصر سے نجات ملے گی، پنجاب کے ہر سیکٹر، ہر ڈیپارٹمنٹ اور ہر ادارے کو ڈیجیٹلائزیشن کی راہ پر گامزن کیا جا رہا ہے جبکہ ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کے لیے پوری ٹیم ایک یونٹ بن کر کام کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آٹومیشن سروسز سسٹم کے ذریعے کسی اہلکار سے واسطہ نہیں پڑتا اور شفافیت یقینی بنائی جاسکتی ہے۔