ملک میں قرضوں میں اضافےکی شرح 20 سال کی کم ترین سطح پر آگئی، وزارت خزانہ
08-12-2026
(ویب ڈیسک)وفاقی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قرضوں میں اضافےکی شرح 20 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 26-2025 میں قرضوں میں اضافہ صرف 7.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ 20 سال کےدوران قرضوں میں اضافےکی اوسط شرح 16 فیصد رہی، قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 68.3 فیصد تک کم ہوگیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 23-2022 میں قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 75 فیصد جبکہ 2019 سے 2021 کے دوران قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 86 سے 88 فیصد تک رہا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 21.5 فیصد ہوگیا، بیرونی قرضوں کا یہ تناسب 9 سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 2.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر ہوگئے، پاکستان نے 4.72 ٹریلین روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کردیا جبکہ ایک سال میں قرضوں پر سود کے اخراجات میں تقریباً 2 ٹریلین روپے کی کمی ہوئی۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومتی آمدن میں سود ادائیگی کا بوجھ 61 فیصد سے کم ہوکر 35 فیصد رہ گیا، پاکستان نے مسلسل 3 سال پرائمری بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان 4 سال بعد عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپس آگیا، پاکستان کے پانڈا بانڈ کی طلب جاری کردہ حجم سے تقریباً 5 گنا زیادہ رہی، ایس اینڈ پی نے پاکستان کی ریٹنگ بی اسٹیبل کردی ہے، ایس اینڈ پی کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ تقریباً 9 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔