ٹاؤن شپ واقعہ: دونوں خواتین پر تشدد ثابت نہیں ہوا: سی سی پی او لاہور

08-11-2026

(لاہور نیوز) سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ ٹاؤن شپ واقعے میں ہلاک ہونے والی دونوں خواتین کی پوسٹ مارٹم رپورٹس میں کسی قسم کا تشدد ثابت نہیں ہوا۔

پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ کے ہمراہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا بھی موجود تھے۔ سی سی پی او لاہور نے بتایا کہ 4 اگست کو ٹاؤن شپ کا واقعہ رونما ہوا، دو خواتین کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا، خواتین کے خلاف دو مقدمات درج تھے جبکہ ان کے آبائی گاؤں سے بھی تفتیش کی گئی۔ بلال صدیق کمیانہ نے بتایا کہ دونوں خواتین کی پوسٹ مارٹم رپورٹس میں کسی قسم کا تشدد سامنے نہیں آیا، شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث پوسٹ مارٹم میں تاخیر ہوئی، جوڈیشل مجسٹریٹ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176 کے تحت کارروائی کی۔ سی سی پی او لاہور کے مطابق 2 اگست کو غازی آباد تھانے کا واقعہ بھی پیش آیا، اے ایس آئی پر معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے الزامات لگے، تھانے میں سیف سٹیز کیمروں کی تمام ریکارڈنگ محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کو ثابت کرنے کے لیے تمام شواہد فرانزک کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں، غازی آباد کیس میں پولیس اہلکار کو حراست میں لیا گیا ہے، اس معاملے کی کوئی جسٹیفکیشن نہیں ہے۔ بلال صدیق کمیانہ نے بتایا کہ اے ایس آئی عمران 2 بج کر 18 منٹ پر خاتون کو پولیس اسٹیشن لایا اور پانچ منٹ بعد واپس چلا گیا، بعد ازاں پولیس اہلکار دوبارہ واپس آیا، خاتون تقریباً 30 منٹ تک تھانے میں رہی۔ سی سی پی او لاہور نے کہا کہ ڈی آئی جی نے معاملے پر سخت ایکشن لیا، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے 78 اہلکاروں کو معطل کیا ہے تاہم ڈی این اے اور دیگر رپورٹس کا انتظار ہے۔