حکومت کا سولر سسٹم کی سستی بجلی لیکر مہنگے داموں فروخت کرنے کا فیصلہ
08-11-2026
(لاہور نیوز) حکومت نے سولر سسٹم کی سستی بجلی لیکر مہنگے داموں فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وفاقی حکومت نے سولر سسٹمز سے حاصل ہونے والی اضافی بجلی کو ذخیرہ کرکے رات کے اوقات میں صارفین کو فروخت کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، منصوبے کے تحت سولر سسٹمز سے گرڈ میں ایکسپورٹ ہونے والے یونٹس کو گرڈ اسٹیشنز پر نصب بیٹریوں میں محفوظ کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق دن کے اوقات میں اضافی بجلی بیٹری اسٹوریج سسٹم میں جمع کی جائے گی، جبکہ رات کے وقت اسی فیڈر سے منسلک صارفین کو یہ بجلی فراہم کی جائے گی۔ منصوبے کے مطابق نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت صارفین سے 25 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدی جائے گی، رات کے وقت اسی فیڈر کے صارفین کو 50 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کی جائے گی۔ اسی طرح نیٹ بلنگ پالیسی کے تحت دن میں 8 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی حاصل کی جائے گی اور رات کو ذخیرہ شدہ بجلی 50 روپے فی یونٹ کے نرخ پر فروخت کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق لیسکو نے ابتدائی طور پر ڈیفنس کے گرڈ سٹیشن پر اس منصوبے کا آغاز کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاہور میں ڈیفنس اور جوہر ٹاؤن ایسے علاقے ہیں جہاں سولر سسٹمز کے ذریعے سب سے زیادہ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، اس لیے منصوبے کا ابتدائی نفاذ انہی علاقوں سے کیے جانے کا امکان ہے۔