کل جماعت اسلامی پاکستان کے 510 مقامات پر احتجاج کرے گی، امیر جماعت اسلامی
08-06-2026
(لاہور نیوز) جماعت اسلامی کی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور لیوی کے خلاف لاہور میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مہنگے پیٹرول کے وجہ سے کل پاکستان کے 510 مقامات پر احتجاج کیا جائے گا۔
احتجاج میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان شریک ہوئے، لاہور کے مختلف زونز سے حلقہ خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، احتجاج میں خواتین نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کم کرنے کا مطالبہ کیا ۔پیٹرول لیوی اور مہنگی بجلی کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے لئے کوئی ریلیف نہیں۔کل لاہور میں مزنگ قرطبہ چوک پر تاریخی احتجاج ہوگا، ہم پُر امن رہیں گے، اگر حکومت نے کوئی رکاوٹیں ڈالی تو ہم ذمہ دار نہیں ہونگے۔حالات ایسے پیدا نا کئے جائیں کہ یہ تحریک حکومت گھیراؤ بن جائے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عوام بجلی کے بل جمع کروائیں یا گھروں کے کرائے دیں، قوم کی لوٹی ہوئی دولت ان حکمرانوں کے پاس ہے، لیوی کے نام پر اربوں روپے کا بھتہ وصول کیا جا چکا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی میں اب ملک کی خواتین کی نمائندگی کر رہی ہیں، خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔کل پاکستان کے 510مقامات پر احتجاج کیا جائے گا۔پیٹرولیم لیوی ہر گھر کے چولہے کا مسلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا میں جنگ سے پہلے والے ریٹ میں پیٹرول آگیا ہے، مگر پاکستان میں پیٹرول اوپر جا رہا ہے۔عام سبزیوں جن کی قیمت چالیس پچاس روپے تھیں ، اب وہ تین سو سے زائد فروخت ہو رہی ہیں۔مگر اس صوبے کے کے لئے اربوں کا جہاز خریدا جا رہا ہے۔ امیر لاہور ضیاء الدین انصاری اور سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکمران آئی پی پیز کے نام پر عوام کا خون چوسا جا رہا ہے، اُس بجلی کے پیسے ادا کر رہے ہیں جو پیدا ہی نہیں ہوتی۔کل سات اگست کو جن زی گھروں سے نکلے گی اور انقلاب آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک صدی گزر گئی، یہی سیاسی پارٹیوں کی باریاں لگی ہوئیں ہیں۔13.9فیصد سالانہ مہنگائی ہو رہی ہے ۔آج غریب کے لئے سوکھی روٹی کھانا مشکل ہوگیا ہے۔مڈل کلاس کے لیے اب جینا مشکل ہوگیا ہے۔شہریوں کو اب گھر چلانے کے لئے موٹر سائیکلیں اور گھر کا سامان بیچنا پڑتا ہے۔ 53فیصد عوام بنیادی تعلیم سے محروم ہو چکی ہے۔پیٹرول مہنگا ہونے کا اثر ہر ضرورت اشیاء پر پڑتا ہے۔ہر پاکستانی اب ذہنی مریض بن چکا ہے، امیر اور غریب کا سکول، مال اور سڑکیں بھی اب الگ الگ ہیں۔