بیوی کے قتل کیس میں شوہر بری، آرٹیکل 122 قانونِ شہادت کی تشریح بھی کر دی

08-06-2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کے قتل کے مقدمے میں شوہر کو بری کرتے ہوئے قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کی اہم تشریح کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزم میاں خان کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا، عدالتی فیصلے کے مطابق واقعہ 18 مئی 2020 کو ضلع چنیوٹ میں پیش آیا۔ استغاثہ کے مطابق سحری کے وقت ملزم تنویر نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی اہلیہ نسرین بی بی کو مبینہ طور پر دوپٹے سے گلا دبا کر قتل کیا، وقوعے کے بعد تھانہ سٹی چنیوٹ میں مقدمہ درج کیا گیا، 17 جنوری 2022 کو ایڈیشنل سیشن جج چنیوٹ نے شریک ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا جبکہ تنویر کو عمر قید، چار لاکھ روپے ہرجانہ اور دیگر سزائیں سنائیں، جس کے خلاف ملزم نے 2022 میں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم تنویر نے اپنی بیوی کو گلا دبا کر قتل کیا، عینی شاہدین کے بیانات، طبی شہادت اور دیگر شواہد اس کے جرم کو ثابت کرتے ہیں، سرکاری وکیل نے یہ بھی استدعا کی کہ چونکہ مقتولہ کی غیر طبعی موت شوہر کے گھر میں ہوئی، اس لیے قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کے تحت ملزم پر لازم تھا کہ وہ موت کی وجوہات کی وضاحت کرے، مگر وہ ایسا نہ کر سکا، اس لیے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جائے۔ ملزم تنویر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ بے گناہ ہے اور وقوعہ کے وقت جھنگ روڈ پر واقع ایک پٹرول پمپ پر ڈیوٹی کر رہا تھا، اس کے مطابق اسے دورانِ ملازمت بیوی کی موت کی اطلاع ملی، گھر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ نامعلوم افراد نے قتل کیا ہے، ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے مدعی اور پولیس کی ملی بھگت سے جھوٹا مقدمہ بنا کر پھنسایا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کا اطلاق خودکار نہیں ہوتا، پہلے استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ قابلِ اعتماد براہِ راست یا ضمنی شواہد کے ذریعے ملزم کو وقوعہ سے جوڑے، اگر استغاثہ یہ بنیادی بوجھ پورا کرنے میں ناکام رہے تو صرف اس بنیاد پر کہ بیوی کی غیر طبعی موت شوہر کے گھر میں ہوئی، ملزم سے وضاحت طلب نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس کی خاموشی کو جرم کا ثبوت قرار دیا جا سکتا، عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری مقدمات میں جرم ثابت کرنے کا بنیادی بوجھ ہر حال میں استغاثہ پر ہی رہتا ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے قرار دیا کہ مقدمے میں ایف آئی آر کے اندراج میں غیر واضح تاخیر، عینی گواہوں کے بیانات میں تضادات، طبی شہادت میں خامیاں، دوپٹے کی برآمدگی اور کال ڈیٹا ریکارڈ سے ملزم کا وقوعہ سے تعلق ثابت نہ ہونا استغاثہ کے مقدمے کو مشکوک بناتا ہے، ان حالات میں پیدا ہونے والے معقول شک کا فائدہ قانون کے مطابق ملزم کو دیا جانا چاہیے، ان وجوہات کی بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ نے ملزم تنویر کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا جبکہ مدعی کی سزا میں اضافے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔