نظامِ حکمرانی پر قومی مکالمہ، نئے صوبوں، انتظامی ماڈلز کے غیرجانبدارانہ جائزے کی سفارش
08-04-2026
(لاہور نیوز) دی یونیورسٹی آف لاہور (یو او ایل) میں "گورننس: لیکن نظام کیا" کے عنوان سے اعلیٰ سطحی مکالمے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کی ممتاز سیاسی، عدالتی، انتظامی، قانونی اور میڈیا شخصیات نے شرکت کی۔
مکالمے میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، سابق نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ، سابق گورنرز سندھ عمران اسماعیل اور محمد زبیر، سابق وفاقی وزیر اسد عمر، سینیٹر سید علی ظفر، لیاقت بلوچ (جماعت اسلامی)، سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، محمد علی درانی، سابق وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری نے شرکت کی۔ بیرسٹر محمد علی سیف، وسیم اختر، ریاض فتیانہ، جسٹس (ر) انوار الحق پنوں، جسٹس (ر) شاہد جمیل، سابق اٹارنی جنرل احمد اویس، چوہدری احسن بھون، رانا حسیب خان (ASC)، اعلیٰ عمران شیرازی (AHC)، افتخار اللہ ڈھلوں (ASC)، روحیل قاضی (AHC)، ڈاکٹر سندس علی، پراس زبیر، بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید خان، احمد بلال محبوب، ڈاکٹر قیس، امجد پرویز، سینئر صحافیوں میں مجیب الرحمان شامی، سلمان غنی سمیت دیگر نے بھی مکالمے میں شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کے نظامِ حکمرانی، ریاستی اداروں کے کردار اور اصلاحات کے مستقبل کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ "گورننس: لیکن نظام کیا" کے عنوان سے منعقدہ اس تعارفی و تعاملی مکالمے کا افتتاح کرتے ہوئے چیئرمین نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس نشست کا مقصد سیاسی نہیں بلکہ علمی اور تحقیقی بنیادوں پر یہ جائزہ لینا ہے کہ پاکستان کے لیے کون سا نظامِ حکمرانی حقیقی معنوں میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں انتظامی نظام کے مختلف تجربات کا تاریخی جائزہ پیش کیا، جن میں بیسک ڈیموکریسیز، مختلف ادوار کے بلدیاتی نظام اور آئین 1973ء شامل ہیں، جو بالآخر آرٹیکل 140-اے کے تحت منتخب مقامی حکومتوں کے قیام کی آئینی ضمانت پر منتج ہوا۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ ادارے آج بھی کمزور ہیں، جنہیں قبل از وقت تحلیل کیے جانے، انتخابات میں تاخیر اور مالی و انتظامی اختیارات کے صوبائی سطح پر ارتکاز جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں شہری بنیادی عوامی خدمات سے مؤثر انداز میں مستفید نہیں ہو پا رہے۔ انہوں نے جرمنی، جنوبی افریقہ، انڈونیشیا، ترکیہ اور چین کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں مؤثر نظامِ حکمرانی کی بنیاد ان اداروں کو بااختیار بنانے پر ہے جو عوام کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ بعد ازاں انہوں نے کانفرنس کے مرکزی سوال کو سامنے رکھتے ہوئے استفسار کیا کہ آیا انتظامی اختیارات بنیادی طور پر ضلعی حکومتوں کو منتقل کیے جانے چاہئیں، جو عوامی سطح پر قربت کی وجہ سے زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہیں، یا پھر آئینی طور پر بااختیار ڈویژنل حکومتوں کو، جو مضبوط انتظامی اور منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتی ہوں، جبکہ ان کے ساتھ مضبوط ضلعی اور تحصیل سطح کے ادارے بھی موجود ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانفرنس کسی ایک مخصوص ماڈل کی پہلے سے حمایت نہیں کر رہی بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا آزادانہ فورم فراہم کرنا ہے جہاں آئینی اصلاحات، مالیاتی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوامی انتظامیہ سے متعلق عملی اور قابلِ عمل سفارشات پر کھلے انداز میں بحث کی جا سکے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرتی ہے، معاشی ترقی کو فروغ دیتی ہے، شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے اور جمہوریت کو مضبوط بناتی ہے، انہوں نے منتظمین اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔ لاہور اعلامیہ میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر اس امر کو تسلیم کیا کہ پائیدار جمہوریت، معاشی ترقی، سماجی انصاف اور مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ایسا نظامِ حکمرانی ناگزیر ہے جو جمہوری، جوابدہ، شفاف، آئینی تحفظ کا حامل اور عوام پر مرکوز ہو۔ شرکاء نے اس بات کی توثیق کی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین عوامی شرکت پر مبنی جمہوری نظامِ حکمرانی کا تصور پیش کرتا ہے اور سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات کی حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقلی وفاق کو مضبوط بنانے اور نظامِ حکمرانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ لاہور اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کی آئندہ خوشحالی، جمہوری استحکام اور قومی یکجہتی کا انحصار ایسے نظامِ حکمرانی پر ہے جو فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لائے، آئینی یقین دہانی فراہم کرے، جمہوری اداروں کو مضبوط بنائے اور معیاری عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بامعنی اصلاحاتِ حکمرانی کے لیے موجودہ نظامِ حکمرانی کی ازسرِ نو تشکیل ضروری ہے تاکہ نچلی سطح پر عوام کی حقیقی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے اور ملک بھر میں جمہوری اداروں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ کانفرنس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دیرپا اصلاحات صرف سیاسی استحکام کے ماحول میں ہی ممکن ہیں، اسی مقصد کے تحت تمام سیاسی جماعتوں، بشمول پاکستان تحریکِ انصاف اور اس کے بانی چیئرمین عمران خان، کے درمیان جلد از جلد ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ نظامِ حکمرانی میں اصلاحات پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔ اعلامیہ میں ایک آزاد الیکشن کمیشن کی ازسرِ نو تشکیل کی بھی سفارش کی گئی، جسے ایک خودمختار ادارے کے تمام اختیارات اور مکمل انتظامی خودمختاری حاصل ہو۔ لاہور اعلامیہ میں کہا گیا کہ نظامِ حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف آئینی اور انتظامی ماڈلز تجویز کیے گئے ہیں، جن میں نئے صوبوں کا قیام، آئینی طور پر بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام اور ڈویژنل انتظامیہ کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ کانفرنس نے اس مرحلے پر کسی ایک ماڈل کی حمایت نہیں کی، تاہم سفارش کی کہ ہر تجویز کا آئینی، انتظامی، مالیاتی اور سیاسی بنیادوں پر غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ اعلامیہ کے مطابق ان تمام تجاویز کا جامع مطالعہ موضوعاتی ورکنگ گروپس کے ذریعے کیا جائے، جن میں جامعات، سیاسی جماعتوں، ارکانِ پارلیمان، آئینی ماہرین، دانشوروں، طلبہ، سول سوسائٹی اور نظامِ حکمرانی کے ماہرین کی نمائندگی شامل ہو تاکہ قوم کے سامنے حقائق اور شواہد پر مبنی سفارشات پیش کی جا سکیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نظامِ حکمرانی میں اصلاحات وسیع قومی مشاورت، جمہوری اتفاقِ رائے اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ہی آگے بڑھنی چاہئیں، نہ کہ یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے مسلط کی جائیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پائیدار اصلاحات اسی وقت ممکن ہیں جب وہ عوام کی امنگوں کی عکاس ہوں اور انہیں وسیع عوامی اعتماد حاصل ہو۔ کانفرنس نے اس قومی مکالمے کو تحقیق، پالیسی سازی میں شمولیت اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا تاکہ جامع سفارشات پارلیمنٹ، صوبائی حکومتوں، کونسل آف کامن انٹرسٹس اور دیگر متعلقہ آئینی اداروں کے سامنے پیش کی جا سکیں۔ لاہور اعلامیہ میں وفاقی اور صوبائی سطح سے سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل کرنے، مقامی حکومتوں کے باقاعدہ، بروقت اور آزادانہ انتخابات کو آئینی و قانونی تحفظ دینے، مقامی حکومتوں کو جمہوری نظام کی مستقل آئینی سطح تسلیم کرنے، مالی وسائل کی شفاف منتقلی یقینی بنانے، مقامی سطح پر محصولات جمع کرنے کے اختیارات دینے، آزاد احتسابی نظام، سماجی آڈٹ، شہری آراء کے مؤثر نظام، اوپن بجٹنگ اور ترقیاتی اخراجات کی عوامی سطح پر شفاف تشہیر کو مقامی نظامِ حکمرانی کا لازمی حصہ بنانے کی سفارش بھی کی گئی۔ شرکاء نے دی یونیورسٹی آف لاہور اور سینٹر فار پالیسی اینڈ نیشن بلڈنگ (CPNB) کا تعمیری قومی مکالمے کے لیے آزاد پلیٹ فارم فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور آئین کی بالادستی، جمہوری نظامِ حکمرانی، قانون کی حکمرانی، عوام کے مفاد میں اختیارات کی مؤثر نچلی سطح تک منتقلی اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے شفاف اور جوابدہ نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا۔ مکالمے کا اختتام چیئرمین دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف نے اس عزم کے ساتھ کیا کہ اس قومی مکالمے کو مستقبل میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت کے ساتھ مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان میں انتظامی نظام کے مختلف ادوار، بیسک ڈیموکریسیز، بلدیاتی نظام اور آئین 1973 کے تحت آرٹیکل 140-اے کے تناظر میں مقامی حکومتوں کے ارتقا کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ارتکاز، بروقت انتخابات نہ ہونے اور مقامی اداروں کی کمزوری کے باعث عوام بنیادی سہولیات سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو پا رہے۔ انہوں نے جرمنی، جنوبی افریقہ، انڈونیشیا، ترکیہ اور چین کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر نظامِ حکمرانی کی بنیاد ان اداروں کو بااختیار بنانے میں ہے جو عوام کے سب سے زیادہ قریب ہوں، انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ انتظامی اختیارات ضلعی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں یا آئینی طور پر بااختیار ڈویژنل حکومتوں کو مضبوط بنایا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے "لاہور اعلامیہ" میں کہا گیا کہ پائیدار جمہوریت، معاشی ترقی، سماجی انصاف اور مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ایسا نظامِ حکمرانی ناگزیر ہے جو جمہوری، شفاف، جوابدہ، آئینی تحفظ کا حامل اور عوام پر مرکوز ہو۔ اعلامیے میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ وفاق کو مضبوط بنانے اور نظامِ حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات کی حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے۔ لاہور اعلامیے میں تمام سیاسی جماعتوں، بشمول پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی چیئرمین عمران خان، کے درمیان جلد از جلد جامع قومی مکالمے کے آغاز کا مطالبہ کیا گیا تاکہ نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کے حوالے سے قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔ شرکاء نے آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن کی ازسرِ نو تشکیل کی سفارش بھی کی، جسے مکمل انتظامی خودمختاری اور آئینی اختیارات حاصل ہوں۔ لاہور اعلامیے میں کہا گیا کہ نظامِ حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے نئے صوبوں کے قیام، آئینی طور پر بااختیار مقامی حکومتوں اور ڈویژنل انتظامیہ کو مضبوط بنانے سمیت مختلف انتظامی ماڈلز زیر غور ہیں، تاہم کانفرنس کسی ایک ماڈل کی حمایت نہیں کرتی بلکہ سفارش کرتی ہے کہ تمام تجاویز کا آئینی، انتظامی، مالیاتی اور سیاسی بنیادوں پر غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ اعلامیے کے مطابق ان تجاویز کا جامع مطالعہ موضوعاتی ورکنگ گروپس کے ذریعے کیا جائے، جن میں جامعات، سیاسی جماعتوں، ارکان پارلیمنٹ، آئینی ماہرین، طلبہ، دانشوروں، سول سوسائٹی اور نظامِ حکمرانی کے ماہرین کی نمائندگی شامل ہو تاکہ شواہد پر مبنی سفارشات تیار کر کے متعلقہ آئینی اداروں کے سامنے پیش کی جا سکیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نظامِ حکمرانی میں اصلاحات وسیع قومی مشاورت، جمہوری اتفاقِ رائے اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ہی آگے بڑھائی جائیں۔ اعلامیے میں وفاقی اور صوبائی سطح سے سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے، مقامی حکومتوں کے باقاعدہ اور بروقت انتخابات کو آئینی تحفظ دینے، مقامی اداروں کو من مانی تحلیل سے محفوظ بنانے اور انہیں مالی وسائل کی شفاف منتقلی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ لاہور اعلامیے میں آزاد احتسابی نظام، سماجی آڈٹ، شہری آراء کے مؤثر نظام، اوپن بجٹنگ اور ترقیاتی اخراجات کی عوامی سطح پر شفاف تشہیر کو بھی مقامی نظامِ حکمرانی کا لازمی حصہ قرار دیا گیا، جبکہ شرکاء نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، جمہوری نظام کے استحکام اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے شفاف نفاذ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ مکالمے کے اختتام پر چیئرمین دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف نے کہا کہ اس قومی مکالمے کو مستقبل میں مزید وسعت دی جائے گی اور نوجوانوں کی بھرپور شمولیت کے ساتھ نظامِ حکمرانی سے متعلق پالیسی مباحث کو آگے بڑھایا جائے گا۔