آئین ماننے والوں سے مذاکرات، دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں: مولانا طاہر اشرفی

08-02-2026

(لاہور نیوز) چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ آئینِ پاکستان کو ماننے والے تمام افراد سے مذاکرات ہونے چاہئیں، جبکہ جو آئین کو تسلیم نہیں کرتا، اسے قبول نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے کشمیر، باجوڑ اور بلوچستان سمیت متاثرہ علاقوں میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے امن کی اپیل کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ بے گناہ شہریوں، خودکش حملوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر پاکستان میں دہشت گردی مسلط کرنا چاہتے ہیں، جن کے خلاف قومی اتحاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے ملک میں ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس، صدرِ مملکت اور وزیراعظم سے اپیل کی کہ زنا اور ریپ کے مقدمات تین ماہ کے اندر نمٹانے کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی سے ریاستی نظام کمزور ہوتا ہے، اس لیے قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف نئے صوبے بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ چھوٹے ہوں یا بڑے صوبے، ہر جگہ بہتر طرزِ حکمرانی اور مؤثر گورننس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات قومی قیادت کے اتحاد اور مشترکہ فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں، جبکہ مہنگائی پر فوری توجہ دینا ہوگی کیونکہ عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو بھی فعال بنایا جائے۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو ملکی حالات کا ادراک ہے۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں دونوں جماعتوں کی مشترکہ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کشمیر میں بھی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت بنائیں گی۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ پورے ماہِ اگست کے دوران "پیغامِ پاکستان" کے عنوان سے ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔