محسن نقوی کی رائے ذاتی، پاکستان کی سلامتی کیلئےگڈ گورننس ناگزیر ہے: ترجمان پاک فوج
07-31-2026
(لاہور نیوز) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ محسن نقوی کی رائے ذاتی جب کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔
سکیورٹی معاملات پر نیوز کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ فورسز نے 40 ہزار 348 آپریشنز کیے، 819 جوان شہید ہوئے جبکہ 2084 دہشت گرد مارے گئے، بلوچستان میں 31 ہزار 80 اور خیبر پختونخوا میں 7 ہزار 177 آپریشن کئے گئے، 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، 2023 میں شہدا کی تعداد زیادہ تھی دہشت گرد کم مارے جا رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں صرف 2 ہزار 91 آپریشن کیے گئے، 2026 میں بم دھماکوں کے 28 واقعات ہوئے، بم دھماکوں میں زیادہ تر افغان شہری ملوث تھے، دہشت گرد ریاست کے سامنے جھکیں ورنہ بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، پاکستان میں آئین اور قوانین سب کے لیے یکساں ہیں، ریاست سے وفاداری ہر شہری کا حق ہے، پاکستان ہی ہماری آخری پہچان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں 322 پاکستانی شہری شہید ہوئے، دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا ہم انہیں ختم کردیں گے ، دہشت گردوں کو اب سمجھ آگیا ہے ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کچھ جماعتوں کی جانب سے حقوق کی بات کی جاتی ہے لیکن کیا اپنے فرائض سے آگاہ ہیں؟ ملک کے دشمنوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، ہارڈ اسٹیٹ وہ ہے جہاں تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق ہوں، ریاست ہے تو شہری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل پانچ کہتا ہے وفاداری صرف ریاست سے ہوگی، ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے، ریاست ہے تو نام ہے، بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر شامل ہیں، افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے، یہ اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں ہمیشہ ان کا غلام رہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ معرکہ حق میں دشمن کی حکمت عملی ناکام ہونے پر بلوچستان پر نظریں جمائی گئیں، مزدوروں کو قتل کیا جاتا ہے کہ بلوچستان میں ترقی نہ آسکے، یہ کہتے ہیں جو ہزار ارب سے زائد بجٹ ملتا ہے اس میں حصہ دو، سردار چاہتے ہیں سو ارب کے بجٹ میں حصہ ملے لیکن نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سردار کہتے ہیں ہمیں حصہ نہیں دو گے تو دہشت گردی کرائیں گے، کئی سردار دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں، یہ لوگ لیویز فورس کو اپنی سرداری فورس سمجھتے ہیں، ان کو لیویز فورس کی تنخواہیں چاہئیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ سرداروں کو عادت ہے لیویز میری ذاتی فورس ہے میں اس کا سردار ہوں، انہیں کاروبار کے نام پر اسمگلنگ کرنے کی عادت ہے، افغانستان اور بھارت کے درمیان بی ایل اے کے علاوہ اور کیا چیز مشترکہ ہے؟ بھارت اور افغانستان دہشت گردی کراتے ہیں، کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل سمگل کیا جاتا ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے اور بھارتی میڈیا ان عناصر کو غیرضروری طور پر نمایاں کرتا ہے،دہشت گرد معصوم بچوں اور بچیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں، خواتین کو ہنی ٹریپ کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے، اور بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ وہاں کا سرداری اور ایلیٹ نظام ہے، جبکہ ایک مخصوص ’اسٹیٹس کو‘ عوام، خصوصاً غریب طبقے کو تعلیم اور ترقی سے محروم رکھنا چاہتا ہے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں ہونےوالےدہشت گردی کےثبوت میڈیا کودکھادیے اور شہدا پولیس کو پاک فوج اورصحافیوں کا خراج عقیدت پیش کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے ذریعے ’فتنہ الہندوستان‘ کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ عام شہریوں کے دکھ درد، دہشت گردوں سے لاتعلقی اختیار کرنے والے خاندانوں کے بیانات اور غیور بلوچ عوام کی وطن سے محبت کے اظہار کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ ترجمان نے الزام عائد کیا کہ بھارتی گودی میڈیا فیک نیوز پر مبنی پروپیگنڈے کے لیے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مذموم مقاصد کے تحت استعمال کر رہا ہے، اگر دہشت گرد عوام کو تکلیف پہنچائیں گے تو ریاست بھی ان کے خلاف بھرپور اور سخت کارروائی کرے گی، جبکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو سخت انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’فتنہ الہندوستان‘ سے وابستہ دہشت گرد خواتین کو ہنی ٹریپ کے ذریعے بی ایل اے میں شامل کرتے ہیں، اور یہ بھی کہا کہ ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ کے بھارتی سرپرست موجود ہیں، بلوچستان میں پولیس اور لیویز کے خلاف 105 واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی استعدادِ کار میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور صوبے کی پولیس دہشت گرد عناصر سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، رواں سال اب تک 18 ارب روپے مالیت کی منشیات ضبط کی جا چکی ہیں جب کہ 4 ہزار 500 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کہ حکومت کا مقصد بلوچستان کے عوام، خصوصاً نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے کیونکہ صوبے کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں، ان کے مطابق بعض سردار نہیں چاہتے کہ نوجوان تعلیم، لیپ ٹاپ اور ٹیکنالوجی کی طرف آئیں بلکہ وہ انہیں اسلحہ اٹھانے کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ بلوچستان میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے زیرِ تعمیر ہیں، پانی کے نئے ذخائر اور نہریں بنائی جا رہی ہیں جبکہ صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں کے لیے بھی خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، شاہراہوں کے منصوبوں سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی آئے گی۔ انہوں نےکہا کہ بھارت اور افغان طالبان کا ڈی این اے ایک ہے، بھارت آقا ہے اور افغان طالبان اس کے غلام ہیں،افغان طالبان دہشت گردی کو بطور کاروبار استعمال کر رہے ہیں اور عام افغان شہری موجودہ طالبان حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ افغان طالبان حکومت کا طرزِ عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں اور وہ فتوے دے کر مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں۔ لیفٹینٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان حکومت کا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور آر ایس ایس سے تعلق اور نظریاتی مماثلت ہے جب کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے سرپرست آر ایس ایس اور ہیبت اللہ ہیں، انہوں نے افغان وزیر سے متعلق سوال پر کہا کہ’ یہ اپنے باپ بھارت کو رپورٹیں دینے جاتے ہیں۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ محسن نقوی کے بعض بیانات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کی ذاتی رائے ہے اور اس پر فوج تبصرہ نہیں کرے گی، پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے، نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا، جن میں سے 13 کا تعلق اچھی حکمرانی سے ہے، تاہم ان پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث مسائل برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی چار گنا بڑھ چکی ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ وہی ہے، اس لیے نئے تقاضوں کے مطابق سوچنا ہوگا، مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، پاکستان سے آج بھی ’ کشمیر بنے گا پاکستان‘ کی آواز بلند ہوتی ہے، جبکہ کشمیری عوام بھی پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، ’پاکستان کا سب سے لاڈلا بچہ کشمیر ہے‘۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی سلامتی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق انتظامی ڈھانچے اور حکمرانی کے نظام پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے گڈ گورننس انتہائی اہم ہے اور اچھی حکمرانی کے بغیر مسائل کا مؤثر حل ممکن نہیں، 1972 میں پاکستان کی آبادی سات سے آٹھ کروڑ تھی جب کہ آج یہ تقریباً 25 کروڑ ہو چکی ہے، اس لیے عوامی ضروریات بھی تبدیل ہو چکی ہیں۔ لیفٹینٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ اگر بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اس پر غور ہونا چاہیے، تاہم چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام یا دیگر انتظامی فیصلوں کا اختیار عوام کے پاس ہے۔