خون کے بہاؤ میں شامل پلاسٹک ذرات دل کی صحت کے لیے شدید خطرہ قرار

07-29-2026

(ویب ڈیسک)پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات انسانی خون کے ذریعے دل کی شریانوں تک پہنچ کر ہارٹ اٹیک کا سبب بن رہے ہیں۔

تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہمارے ارد گرد موجود پلاسٹک کے ذرات خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر دل کو متاثر کر رہے ہیںماہرین کا اندازہ ہے کہ انسان ہر ہفتے ایک کریڈٹ کارڈ کے برابر پلاسٹک کھا رہا ہے۔ تحقیقی عمل کے دوران انجیو گرافی کروانے والے 6 افراد کے 3 گروپس بنائے گئے، جن میں ہارٹ اٹیک کے مریض، شریانوں کے سکڑاؤ کا شکار افراد اور صحت مند افراد شامل تھے۔ تحقیق کے دوران جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی کے ذریعے خون کی نالیوں کا معائنہ کیا گیا تاکہ ان میں موجود پلاسٹک کے ذرات کی سطح کا اندازہ لگایا جا سکے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنے والے 84 فیصد مریضوں کی شریانوں میں پلاسٹک کے ذرات موجود تھے۔ اسی طرح، شریانیں سکڑنے والے 40 فیصد اور بظاہر صحت مند نظر آنے والے 32 فیصد افراد کی شریانوں میں بھی یہ مضرِ صحت ذرات پائے گئے۔ ان میں پولی تھین پلاسٹک کی مقدار سب سے زیادہ تھی۔ تحقیق میں یہ بات واضح ہوئی کہ شریانوں میں جمع ہونے والا یہ مواد ہارٹ اٹیک، فالج اور اچانک موت کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی بھی ان پلاسٹک ذرات کو دل کی شریانوں میں جمع کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جو انسانی صحت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مائیکرو پلاسٹک اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین طبی خطرہ بن چکا ہے۔ 2024 کی سابقہ رپورٹس بھی اس کی تائید کر چکی ہیں، لہذا پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانا اور فضائی آلودگی پر قابو پانا اب زندگی بچانے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔