وزیراعلیٰ مریم نواز نے کسانوں کیلئے لیب آن ویلز منصوبے کا آغاز کر دیا
07-28-2026
(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کسانوں کو جدید زرعی سہولیات کی فراہمی کیلئے انقلابی "لیب آن ویلز" منصوبے کا آغاز کر دیا۔
اس منصوبے کے تحت موبائل لیبارٹریاں کسانوں کے کھیتوں تک پہنچ کر مٹی اور پانی کے نمونوں کا موقع پر ہی سائنسی تجزیہ کریں گی، حکام کے مطابق موبائل لیب ٹیمیں کسان کے کھیت سے مٹی اور پانی کے نمونے حاصل کریں گی، جہاں مٹی کی پی ایچ (pH)، الیکٹریکل کنڈکٹیوٹی (EC) اور نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم (NPK) سمیت بنیادی غذائی اجزاء کی آن دی سپاٹ جانچ کی جائے گی۔ ٹیسٹنگ کے نتائج فوری طور پر موبائل ایپ میں درج کئے جائیں گے اور رپورٹ موقع پر ہی جاری کر دی جائے گی، جبکہ اس کا لنک کسان کو ایس ایم ایس اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی ارسال کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے موبائل فون پر مکمل ڈیجیٹل رپورٹ دیکھ سکیں۔ رپورٹ میں زمین کی ضروریات کے مطابق کھادوں کے متوازن استعمال اور موزوں فصلوں سے متعلق سفارشات بھی شامل ہوں گی، اس کے علاوہ زرعی ماہرین کسانوں کو کھیت میں ہی آمنے سامنے رہنمائی اور مشاورت فراہم کریں گے۔ منصوبے کی نگرانی کیلئے سینٹرل کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں سے تمام موبائل لیبارٹریوں کی ریئل ٹائم جی پی ایس ٹریکنگ، لائیو کیمرا سٹریمنگ اور ڈیش بورڈ مانیٹرنگ کے ذریعے فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، موبائل ایپ کے ذریعے فیلڈ عملے کی موقع پر حاضری بھی یقینی بنائی جائے گی۔ حکام کے مطابق کسان کی درخواست موصول ہونے پر موبائل لیب کا شیڈول وزٹ مقرر کیا جائے گا اور ڈسٹرکٹ لیب انچارج کی منظوری کے بعد ٹیم کھیت کا معائنہ کرے گی، منصوبے کے تحت ریئل ٹائم کلاؤڈ ڈیٹا سٹوریج کے ذریعے پنجاب کا ڈیجیٹل جی پی ایس سوئل میپ بھی تیار کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ مٹی کی درست جانچ اور متوازن کھادوں کا استعمال ہی پنجاب کو زرعی طور پر خودکفیل بنا سکتا ہے، حکومت نے زراعت کو روایتی طریقوں سے نکال کر سائنسی اور ڈیجیٹل دور میں داخل کر دیا ہے، جبکہ ہدف کسان کی پیداواری لاگت کم کرنا اور فی ایکڑ آمدن میں اضافہ کرنا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت سالانہ 20 ہزار مٹی کے نمونوں کی جانچ، 500 کسان فیلڈ ڈیز کے انعقاد اور 15 ہزار کسانوں کو جدید زرعی تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔