لاہور ہائیکورٹ کا شوہر کے ظلم پر خلع لینے والی بیوی کے حق مہر سے متعلق اہم فیصلہ

07-27-2026

(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے شوہر کے ظلم پر خلع لینے والی بیوی کے حق مہر سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے خلع، فسخِ نکاح اور حق مہر سے متعلق ایک نہایت اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر بیوی یہ ثابت کر دے کہ شادی کے خاتمے کی وجہ شوہر کا ظلم، تشدد یا دیگر ازدواجی زیادتیاں ہیں تو وہ اپنے حق مہر سے محروم نہیں ہوگی۔ عدالت نے واضح کیا کہ حق مہر کا فیصلہ ہر مقدمے کے حقائق کی بنیاد پر الگ سے کیا جائے گا اور ہر خلع کے مقدمے میں حق مہر کی واپسی لازم نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ارسلان کی درخواست ابتدائی سماعت پر ہی خارج کر دی، یہ درخواست ٹوبہ ٹیک سنگھ کی فیملی عدالت اور ڈسٹرکٹ جج کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزار شوہر ارسلان نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10 کی ذیلی دفعات (5) اور (6) کو وفاقی شرعی عدالت پہلے ہی اسلامی احکامات سے متصادم قرار دے چکی ہے جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ شوہر ارسلان کے مطابق اس لیے بیوی کے حق میں حق مہر کا کوئی حصہ دینے کا حکم قانونی بنیاد نہیں رکھتا اور فیملی عدالت کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کا نکاح 18 مارچ 2022 کو ہوا تھا اور ایک لاکھ روپے حق مہر درج کیا گیا تھا، جو ادا نہیں کیا گیا۔ بیوی نِشا شاہد نے فیملی عدالت میں دعویٰ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حق مہر کا مطالبہ کرنے پر شوہر نے مارپیٹ شروع کر دی، معمولی باتوں پر تشدد کرتا تھا، بے روزگار تھا۔ نشا شاہد نے بتایا کہ چوری اور منشیات کا عادی تھا، والدین سے رقم لانے کا مطالبہ کرتا تھا، گالم گلوچ کرتا تھا، گھر سے نکال دیا، نان و نفقہ ادا نہیں کیا اور کبھی صلح یا واپسی کی کوشش بھی نہیں کی۔ فیملی عدالت نے بیوی کا دعویٰ جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے اس کے دعوے کے مطابق مؤخر حق مہر کا پچاس فیصد دینے کا حکم دیا تھا جبکہ شوہر کی اپیل ڈسٹرکٹ جج نے ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ خلع اور فسخ نکاح دو الگ قانونی تصورات ہیں، اگر بیوی صرف ناپسندیدگی کی بنیاد پر خلع چاہتی ہے تو حق مہر کی واپسی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے، تاہم اگر شادی شوہر کے ظلم، تشدد، بدسلوکی، نان و نفقہ نہ دینے یا دیگر قانونی وجوہات کی بنیاد پر ختم ہو تو حق مہر برقرار رہے گا اور شوہر اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی، نفسیاتی، زبانی اور معاشی تشدد بھی ظلم کے زمرے میں آتے ہیں، بیوی کے لیے ہر واقعے پر میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر پیش کرنا ضروری نہیں بلکہ اس کا قابل اعتماد بیان اور دیگر حالات بھی ثبوت کے طور پر کافی ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ فیملی کورٹ پہلے یہ طے کرے گی کہ شادی ٹوٹنے کی اصل وجہ کیا تھی، اس کے بعد ہی حق مہر کے بارے میں فیصلہ کرے گی، محض یہ لکھ دینے سے کہ نکاح "خلع" کے ذریعے ختم ہوا، حق مہر خودبخود ختم نہیں ہو جاتا۔ فیصلے کے آخر میں لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت اور لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کو سفارش کی کہ قانون میں نئی شق شامل کی جائے تاکہ فیملی عدالتیں شادی کے خاتمے کی وجہ کا واضح تعین کرنے کے بعد ہی حق مہر کے بارے میں فیصلہ کریں اور جہاں شوہر کا قصور ثابت ہو وہاں حق مہر متاثر نہ ہو۔ عدالت کی جانب سے اس فیصلے کی نقل سیکرٹری قانون پنجاب اور لا اینڈ جسٹس کمیشن کو بھی ارسال کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔