لاہور ہائیکورٹ: پارکنسن کے مریض ڈاکٹر ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور

07-25-2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے پارکنسن کے مریض ڈاکٹر ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی۔

لاہور ہائیکورٹ نے پارکنسن کے مریض ملزم ڈاکٹر کی ضمانت منظور کرلی جسٹس امجد رفیق نے "کمزوری" کو ضمانت کی مستقل قانونی بنیاد قرار دے دیا اور کہا ضمانت کے لیے بیماری اور "کمزوری"الگ الگ قانونی بنیادیں ہیں، لیگل رپورٹ میں جسمانی کمزوری ثابت ہو جائے تو عدالت بیماری کی شدت جانچے بغیر بھی ضمانت دے سکتی ہے، انسانی وقار، تناسب اور مساوات کے اصول ضمانت کے فیصلوں میں مقدم ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے ایک اہم نظیر قائم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت "کمزوری" ضمانت کی ایک مستقل اور خودمختار قانونی بنیاد ہے، جو صرف بیماری تک محدود نہیں۔ عدالت نے پارکنسن کے مرض میں مبتلا ایک ڈاکٹر کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ جسمانی کمزوری، بڑھاپا یا ایسا جسمانی عارضہ جو معمول کی زندگی گزارنے کی صلاحیت متاثر کر دے، ضمانت کے لیے کافی بنیاد بن سکتا ہے۔جسٹس محمد امجد رفیق نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے سبزہ زار تھانے لاہور میں درج مقدمے میں گرفتار ڈاکٹر افتخار احمد کی درخواست ضمانت منظور کر لی، مقدمہ ایک بچے کے ختنہ کے دوران مبینہ طبی غفلت کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق جیل کی میڈیکل رپورٹ سے ثابت ہوا کہ ملزم پارکنسن جیسے دماغ کے بتدریج بڑھنے والے مرض میں مبتلا ہے، چلنے پھرنے، بولنے اور روزمرہ امور انجام دینے کے لیے دوسروں کی مدد کا محتاج ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ ملزم کو جیل میں طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، لیکن صرف یہ حقیقت ضمانت سے انکار کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ عدالت نے آبزرویشن دی کہ "کمزوری" کا تصور صرف علاج طلب بیماری تک محدود نہیں بلکہ ایسی جسمانی حالت بھی اس میں شامل ہے جس کے باعث قیدی جیل کی سختیوں کو معمول کے افراد کی طرح برداشت نہ کر سکے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جیلوں میں غیر معیاری خوراک، صفائی کی خراب صورتحال، ہجوم اور ذہنی دباؤ جسمانی کمزوری میں اضافہ کرتے ہیں، اس لیے ضمانت کے فیصلوں میں انسانی وقار، مساوات اور تناسب کے آئینی اصولوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ کمزور اور معذور افراد کو غیر ضروری جسمانی اذیت سے بچایا جائے۔ عدالت نے متعدد پاکستانی، برطانوی، بھارتی، امریکی اور یورپی عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں جسمانی کمزوری اور بڑھاپے کو ضمانت دیتے وقت ایک اہم قانونی عنصر تسلیم کیا جاتا ہے۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر جیل رپورٹ میں کسی قیدی کی کمزوری یا بیماری کی تصدیق موجود ہو تو عدالت بیماری کی شدت یا نوعیت میں غیر ضروری بحث کیے بغیر ضمانت دے سکتی ہے، جبکہ ایسی رپورٹ نہ ہونے کی صورت میں عدالت خود بھی ملزم کی جسمانی حالت کا جائزہ لے سکتی ہے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ وہ شواہد پر اثرانداز نہیں ہوگا، گواہوں کو دھمکیاں نہیں دے گا، عدالت کی اجازت کے بغیر دائرہ اختیار سے باہر نہیں جائے گا اور اپنا پاسپورٹ جمع کرائے گا۔