سیشن جج کو دفعہ 22-اے کی درخواستیں منتقل کرنے کا اختیار نہیں: لاہور ہائیکورٹ

07-23-2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سیشن جج کو فوجداری ضابطہ کی دفعہ 22-اے کے تحت اندراج مقدمہ کی درخواستیں ایک جسٹس آف دی پیس سے دوسرے جسٹس آف دی پیس کو منتقل کرنے کا اختیار حاصل نہیں، تاہم غیر معمولی حالات میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی کا اختیار برقرار رہے گا۔

یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے درخواست گزار فیصل منظور کی جانب سے سیشن جج اوکاڑہ کے حکم کے خلاف دائر آئینی درخواست پر جاری کیا، جس میں سیشن جج کے حکم کو جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سیشن جج کا دفعہ 22-اے کے تحت اندراج مقدمہ کی درخواستوں کی منتقلی کا حکم دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی درخواستوں کی منتقلی کا اختیار صرف لاہور ہائیکورٹ کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت حاصل ہے، سیشن جج کو نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ دوسری جانب قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی کے حوالے سے سیشن جج کا اختیار قانون کے مطابق ہے، اس لیے اس حصے کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ عدالت کے مطابق مقدمے میں مدعا علیہ نمبر دو نے درخواست گزار کے خلاف یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ مقامی بار کا رکن اور وکیل ہے، درخواست گزار اسے ہراساں کر رہا ہے اور اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر دیپالپور میں جان لیوا حملے کا خدشہ ہے، فریقین نے ایک دوسرے پر ہراسانی، دھمکیوں اور حملے کے الزامات بھی عائد کیے جبکہ ان الزامات کے حوالے سے ایف آئی آر بھی درج ہو چکی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے غیر معمولی حالات میں شفاف انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی کا حکم درست تھا، فیصلے میں اس مسلمہ اصول کو بھی دہرایا گیا کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے۔ اہم قانونی نکتہ:لاہور ہائیکورٹ نے اس فیصلے میں یہ اصول طے کیا ہے کہ سیشن جج دفعہ 22-اے کے تحت اندراج مقدمہ کی درخواستیں ایک جسٹس آف دی پیس سے دوسرے جسٹس آف دی پیس کو منتقل نہیں کر سکتا، جبکہ ایسی منتقلی کا اختیار صرف لاہور ہائیکورٹ کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت حاصل ہے، البتہ غیر معمولی حالات میں سیشن جج قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی کا اختیار استعمال کر سکتا ہے۔