ڈیفنس اے میں ہوائی فائرنگ کا مقدمہ درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل
07-20-2026
(لاہور نیوز) تھانہ ڈیفنس اے کی حدود میں پیش آنے والی ہوائی فائرنگ کے واقعے پر پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔
مقدمہ نامعلوم کار سوار کے خلاف درج کیا گیا، تاہم ایف آئی آر میں کہیں بھی وفاقی وزیر عطا تارڑ کی گاڑی کے قریب فائرنگ کا ذکر شامل نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ ڈیفنس اے کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر عبدالحمید کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں غفلت، لاپرواہی، دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، تیز رفتاری اور سرکاری ملازمین کی ڈیوٹی میں مداخلت سمیت دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 337 ایچ(2)، 440، 427، 279 اور 186 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو ڈیفنس موڑ پر ون فائیو کال کے ذریعے ہوائی فائرنگ کی اطلاع ملی، جس پر پولیس نے ایک کار کو روکنے کی کوشش کی، مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کار سوار نے پولیس اہلکاروں کو خوفزدہ کرنے کیلئے فائرنگ کی، گاڑی کو زگ زیگ انداز میں چلاتے ہوئے بیریئر توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں گاڑی کا رجسٹریشن نمبر BVB-880درج کیا گیا ہے، تاہم ڈرائیور کا نام معلوم نہیں ہو سکا، پولیس نے جائے وقوعہ سے چار خول بھی برآمد کر لئے ہیں اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔