مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر سیاسی رہنماؤں کا شدید ردعمل، معافی کا مطالبہ

07-14-2026

(لاہور نویز) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاک فوج اور شہداء سے متعلق بیان پر ملک بھر میں سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ شہداء پوری قوم کا فخر اور قومی غیرت کی علامت ہیں۔ وطن پر جان قربان کرنے والوں کی عظیم قربانیوں کو کسی دنیاوی پیمانے سے نہیں تولا جا سکتا اور شہداء کے بارے میں سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے الفاظ نے کروڑوں پاکستانیوں کے دل دکھائے ہیں، فوجی جوان تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن، قوم اور اپنے حلف کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کے عظیم رتبے کو مالی معاوضے سے جوڑنا نہ انصاف ہے، نہ اخلاقی اقدار اور نہ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ، جبکہ شہداء کی قربانیوں کو سیاست کی نذر کرنا قابلِ مذمت ہے۔ وزیرِ مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا بیان شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کی کھلی توہین ہے، شہادت تنخواہ سے نہیں بلکہ حب الوطنی، ایمان اور جذبۂ قربانی سے ملتی ہے، مولانا فضل الرحمٰن قوم اور شہداء کے اہلِ خانہ سے معافی مانگیں۔ وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے بیان کو انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات شہداء کے اہلِ خانہ اور ہر محبِ وطن پاکستانی کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن فوری طور پر اپنا بیان واپس لیں اور پوری قوم سے معذرت کریں۔ صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا اختیار ولی نے کہا کہ پاک فوج کے شہداء کے لیے تنخواہ کا بیانیہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ فہم ہے۔ کیا دنیا میں کوئی صرف پیسوں کے لیے اپنی جان قربان کرتا ہے؟ رکن خیبرپختونخوا اسمبلی فرح خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا بیان پاک فوج کی لازوال قربانیوں کو مجروح کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ ذرا ہوش سنبھال کر بات کریں، یہ فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ فوجی جوان روز ہماری حفاظت کی خاطر جانوں کے نذرانے دے کر اپنے ماں باپ اور ملک کو سرخرو کر رہے ہیں۔ شہداء کی قربانیوں کو پیسوں میں تولنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سارہ احمد نے کہا کہ پاکستان کے شہداء کی قربانیوں کو کبھی تنخواہوں یا مادی پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا، رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد نے کہا کہ ایسے ریمارکس شہداء کے خاندانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا جذبات مجروح کرنے والا اقدام ہے، جبکہ سپاہیوں کی قربانیاں حب الوطنی، ایمان، فرض شناسی اور جذبۂ ایثار کا مظہر ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج عالم اسلام اور اقوام عالم میں پاکستان کی قدر و قیمت اور وقار افواج پاکستان کے طفیل ہے، پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں جان نثار کرنے والوں کو اپنا محسن شمار کرتی ہیں اور یہی شہداء اور غازی ہماری آزادی کے ضامن ہیں، مختلف سیاسی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمٰن سے اپنا بیان واپس لینے اور قوم سمیت شہداء کے اہلِ خانہ سے معذرت کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔