ایکسیس ٹو فنانس پلان کے تحت وزیراعظم کا ایس ایم ای قرضوں کا حصہ بڑھانے کا ہدف
07-10-2026
(لاہورنیوز) ایکسیس ٹو فنانس پلان کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے دو سال میں ایس ایم ای قرضوں کا حصہ 10 فیصد تک بڑھانے کا ہدف دے دیا۔
وفاقی دارالحکومت میں شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان میں مالی سہولیات تک رسائی (ایکسیس ٹو فنانس) کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں معیشت کے ترجیحی شعبوں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایکسیس ٹو فنانس پلان کا مقصد معاشی استحکام کو پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنا، مالی سہولیات کی فراہمی کو وسعت دینا اور اسے قومی سطح پر مرکزی دھارے کا حصہ بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی کے شعبوں کے لیے قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی بڑھائی جائے گی۔ دوسری جانب بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے پر عملدرآمد وزارت خزانہ، سٹیٹ بینک، صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے اشتراک سے کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نئے گورننس اسٹرکچر کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک شریک سربراہ ہوں گے۔ وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے بینک ترجیحی بنیادوں پر اس شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور وہ خود ہر ماہ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا منصوبے کے تحت اگلے دو سال میں نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جب کہ ایس ایم ای قرضوں سے مستفید کاروباروں کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار تک پہنچانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ مزید برآں اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، وزیر مملکت برائے خزانہ، گورنر سٹیٹ بینک، مختلف بینکوں کے صدور و سی ای اوز، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔