لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب میں تفتیش کا شکار تمام مقدمات کے اڈٹ کا حکم

07-09-2026

(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کی ناقص تفتیش اور مقدمات میں غیر معمولی تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو صوبہ بھر میں تاخیر کا شکار مقدمات کا آڈٹ کرانے اور ذمہ دار افسران کی غفلت دور کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

  جسٹس محمد طارق ندیم نے 2018 کے قتل کے مقدمے میں 2025 میں گرفتار ہونے والے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، عدالت نے قرار دیا کہ پولیس کی غفلت کا بوجھ کسی ملزم پر نہیں ڈالا جا سکتا اور غیر ضروری تاخیر منصفانہ ٹرائل اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالت کے مطابق مقدمے میں تقریباً سات سال تک نہ مؤثر تفتیش کی گئی، نہ ملزم کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی اسے اشتہاری قرار دینے کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے گئے، فیصلے میں کہا گیا کہ قانون پولیس کو 14 روز کے اندر تفتیش مکمل کرنے کا پابند بناتا ہے، مگر اس کیس میں چھ سال سے زائد عرصے تک کیس ڈائری بھی باقاعدگی سے تحریر نہیں کی گئی، جو قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے مزید آبزرویشن دی کہ پولیس نے مقدمے کے کراس ورژن کی مؤثر تفتیش نہیں کی اور یکطرفہ تحقیقات قانون کے تقاضوں کے منافی ہیں، فیصلے میں کہا گیا کہ تفتیشی افسر کا بنیادی فرض اصل حقائق سامنے لانا اور حقیقی ملزم تک پہنچنا ہے، نہ کہ صرف ایک رخ پر تحقیقات کرنا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ضلعی پولیس کی نگرانی کا نظام اس مقدمے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے، جبکہ چھ سال تک کیس فائل کا نظر انداز رہنا انتظامی نااہلی کی واضح مثال ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد کسی ملزم کو مزید جیل میں رکھنا قانونی طور پر درست نہیں اور ٹرائل سے پہلے غیر ضروری قید قبل از وقت سزا کے مترادف ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے فیصلے کی نقل آئی جی پنجاب کو بھجوانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ اسے صوبہ بھر کے تمام آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز اور ہیڈز آف انویسٹی گیشن تک پہنچایا جائے تاکہ تاخیر کا شکار مقدمات کا آڈٹ کر کے غفلت کے اسباب دور کیے جائیں۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کو 30 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا۔