اشیائے خورونوش کی من مانے نرخوں پر فروخت، شہری مہنگائی تلے دب گئے
07-05-2026
(لاہور نیوز) شہر میں اشیائے ضروریہ کی سرکاری قیمتوں پرعملدرآمد نہ ہونے کے باعث شہری مہنگائی کے مسلسل بوجھ تلے دب گئے۔
دودھ، روٹی، گوشت، سبزیوں اور پھلوں سمیت کئی اشیاء سرکاری نرخوں کے بجائے من مانی قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں، جبکہ پرائس کنٹرول اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہو سکے۔ مارکیٹ سروے کے مطابق سادہ روٹی کی سرکاری قیمت 14 روپے مقرر ہے، تاہم بیشتر تندوروں پر یہ 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح بیف سرکاری نرخ 800 روپے فی کلو کے بجائے 1200 روپے فی کلو جبکہ مٹن 1600 روپے کے بجائے 3 ہزار روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ دودھ اور دہی کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخ نامہ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ دودھ، جس کی سرکاری قیمت 170 روپے فی لیٹر ہے، اوپن مارکیٹ میں 240 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ دہی 180 روپے کے بجائے 250 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مختلف سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بھی سرکاری ریٹ لسٹ سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کی مؤثر نگرانی نہ ہونے سے منافع خور عناصر کھلے عام من مانی کر رہے ہیں۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹوں میں باقاعدہ چیکنگ کا نظام مؤثر بنایا جائے، سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اوورچارجنگ میں ملوث دکانداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔