سانحہ کاہنہ: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی لواحقین کے گھر آمد
07-03-2026
(لاہور نیوز) سانحہ کاہنہ کو تین روز گزر گئے، تعزیت کے لیے آنے والوں کی آمد کا سلسلہ جاری، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے لواحقین سے تعزیت کی اور متاثرہ ٹیوشن سینٹر کا دورہ کیا۔
سانحہ میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین سے تعزیت کی، حافظ نعیم الرحمان نے جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کے بلندی درجات کے لیے دعا بھی کی اور کہا کہ پھول جیسے بچے دنیا سے رخصت ہو گئے، دل بہت اداس ہے،روڈ خراب ہونے سے حادثہ کے وقت کئی بچوں نے راستے میں ہی دم توڑا۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، وزیر اعلی کے دورے سے پہلے روڈ کی حالت کو بہتر کیا گیا، جو ڈویلپمنٹ ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہو رہی، یہ علاقے لاہور کی اصل آبادیاں ہیں، ایسی کئی بستیاں لاہور اور پنجاب میں موجود ہیں، اپنے مقاصد کے لیے میڈیا کو خرید لیا جاتا ہے، مقامی لیڈر شپ یہاں موجود ہے، متاثرین کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلی متاثرہ جگہ پر نہیں آئیں، باہر مین روڈ سے ہو کر چلی گئیں، ہمارے بچوں کا حق ہے انہیں معیاری تعلیم ملے، چند لاکھ کے چیکس تقسیم کر کے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، ان کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔والدین کے ساتھ تعزیت کرتا ہوں، اللہ کی ذات ان کو صبر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا، غربت میں پنجاب میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سکول بند کر دینا مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے، پنجاب میں 1 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔عوام کو بیدار ہونا پڑے گا، ورنہ یہی کچھ چلتا رہے گا، سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔