جیل اصلاحات پر قومی اعلامیہ جاری، چاروں وزرائے اعلیٰ کے دستخط

07-02-2026

(لاہور نیوز) سپریم کورٹ کی میزبانی میں منعقدہ جیل اصلاحات کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی دستخط کئے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جیلیں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کا بوجھ اٹھا رہی ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچے، صحت کی سہولیات، ذہنی صحت کی خدمات، بحالی، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع بھی ناکافی ہیں۔ سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق یہ چیلنجز نہ صرف جیلوں کے انتظام بلکہ انصاف تک رسائی، عوامی تحفظ، انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بامعنی اور پائیدار جیل اصلاحات کے لیے ایگزیکٹو، عدلیہ اور مقننہ کے درمیان مربوط اقدامات ناگزیر ہیں، جیلوں کے انتظام، وسائل کی فراہمی اور اصلاحات کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق غیر ضروری قید میں کمی، جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کے مسئلے کے حل اور جیل انتظامیہ کو آئینی اور انسانی حقوق کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ اعلامیے میں قیدیوں کے لیے حفظان صحت، غذائیت، طبی اور ذہنی صحت کی سہولیات، شکایات کے ازالے، تشدد اور بدسلوکی سے تحفظ کے اقدامات بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، نفسیاتی معاونت، منشیات کے علاج، مہارتوں کی نشوونما اور رہائی کے بعد بحالی کے پروگرامز کو وسعت دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق جیل اصلاحات کے متفقہ قومی میکانزم پر عملدرآمد کی پیش رفت سے متعلق باقاعدگی سے رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جیل اصلاحات محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ آئینی، انسانی اور عوامی تحفظ کا تقاضا ہیں اور ایسا جیل نظام تشکیل دیا جائے گا جو قانونی، انسانی اور بحالی پر مبنی ہو۔