کاہنہ سانحے کے بعد پنجاب میں ٹیوشن سینٹرز کی ریگولیشن کیلئے قانون سازی کا فیصلہ

07-01-2026

(لاہور نیوز) کاہنہ ٹیوشن سینٹر سانحے کے بعد پنجاب حکومت نے 1984 کے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس میں ترامیم لانے کا فیصلہ کر لیا جبکہ ٹیوشن سنٹرز کی ریگولیشن کیلئے باقاعدہ قانون سازی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق 41 سال پرانے قانون میں ٹیوشن سینٹرز کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں، جس کے باعث ان کی رجسٹریشن، نگرانی اور حفاظتی معیارات سے متعلق قانونی خلا پایا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ٹیوشن سنٹرز کو باقاعدہ قانونی ریگولیٹری فریم ورک میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے، مجوزہ ترامیم میں ٹیوشن سینٹرز کی لازمی رجسٹریشن، بلڈنگ سیفٹی، فائر سیفٹی اور دیگر حفاظتی ضوابط کو قانونی حیثیت دینے کی تجویز شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق 2025 میں پنجاب اسمبلی میں ایک نجی رکن کی جانب سے ٹیوشن سینٹرز کی ریگولیشن سے متعلق بل بھی پیش کیا گیا تھا، جس میں رجسٹریشن، معائنہ اور حفاظتی معیارات کو لازمی قرار دینے کی تجاویز دی گئی تھیں۔ حکومت اس بل کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ مؤثر قانون سازی کی جا سکے۔