کاہنہ: اکیڈمی کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 14 بچے جاں بحق، ریسکیو آپریشن مکمل
06-30-2026
(لاہور نیوز) کاہنہ کے علاقے میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی گئی۔
وزیر صحت پنجاب کے مطابق حادثے میں جاں بحق بچوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے، ریسکیو حکام کے مطابق ایک خاتون ٹیچر سمیت 20 سے 25 افراد ٹیوشن سینٹر میں موجود تھے، زیادہ تر بچے کم عمر تھے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع شام 4 بج کر 45 منٹ پر ملی تھی، علاقہ مکینوں کے مطابق عمارت میں صبح کے اوقات میں سکول بھی چلتا تھا جبکہ بچے اکیڈمی میں ٹیوشن کے لیے موجود تھے۔ پولیس کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا، گراؤنڈ فلور پر بچے موجود تھے، واقعے کے بعد گھر کے مالک سمیت 2 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 7 سالہ ماہ نور فاروق، 7 سالہ رمشا عاطف، 5 سالہ مرتضیٰ عاطف، 9 سالہ غلام نبی، 6 سالہ تابشہ شہزاد، 16 سالہ خدیجہ دختر وسیم، 6 سالہ سلمان ولد وسیم اور 8 سالہ فواد ولد عابد شامل ہیں۔ ٹی ایچ کیو ہسپتال کاہنہ کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 6 بچوں کی حالت مستحکم ہے، زخمیوں میں 8 سالہ ابیہا، 10 سالہ فاریہ، 11 سالہ مرتضٰی، 8 سالہ ایان، 7 سالہ رابعہ اور 30 سالہ حمیدہ ریحان شامل ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک حادثے پر قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے حادثے میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی، انہوں نے زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کاہنہ میں ایک گھر کے اندر قائم ٹیوشن سینٹر میں بچے خستہ حال چھت کے نیچے پڑھ رہے تھے۔ دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب خود صورتحال کو مانیٹر کر رہی ہیں جبکہ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی تھیں، ان کے مطابق متعدد بچوں کو ریسکیو کر کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نجی گھر کے اندر قائم ٹیوشن سینٹر تھا، جس کے اندر حکومت کا براہ راست عمل دخل نہیں ہوتا، تاہم حکومت کی پہلی ترجیح بچوں کو ملبے سے نکالنا تھی، صوبائی وزیر کے مطابق ابتدائی طور پر 18 سے زائد بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ٹیوشن سینٹر میں تقریباً 35 بچے موجود تھے، حتمی تعداد کے حوالے سے فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات یا ڈاکٹرز کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے جبکہ ہیوی مشینری احتیاط کے پیش نظر استعمال نہیں کی گئی تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے، حکومت ہر طرح کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے تاہم یہ نجی ملکیت میں قائم ٹیوشن سینٹر تھا اور اسی وجہ سے حکومتی نگرانی محدود تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، وزیراعلیٰ نے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے حادثے کے ذمہ داران کے تعین کا حکم بھی دیا ہے۔ انہوں نے صوبائی وزراء کو امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی، صوبائی حکومت کے مطابق متاثرہ افراد کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ کاہنہ میں پرائیویٹ ٹیوشن سینٹر کی چھت کمزور اور گارڈر والی تھی، جبکہ بارشوں کے باعث چھت کی مٹی کمزور ہو چکی تھی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حادثے میں 14 بچے جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے لیے پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، چودہ معصوم بچوں کی جانیں گئیں جبکہ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور علاقے کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش بھی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارشوں کے باعث عمارت کی چھت کمزور ہوئی، جس کے نتیجے میں افسوسناک حادثہ پیش آیا، ریسکیو حکام نے کہا ہے کہ کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے کا ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ترجمان ریسکیو کے مطابق ملبے تلے دبے 20 بچوں کو نکال لیا گیا، جن میں 14 بچے جاں بحق ہوئے جبکہ 6 بچے زخمی ہوئے، ریسکیو ترجمان فاروق احمد نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور تقریباً 20 بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں، تاہم افسوسناک طور پر 14 بچوں کی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔