پنجاب بھر میں فرد برائے بیع ختم، یکم جولائی سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ لازمی

06-30-2026

(لاہور نیوز) پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں زمین و جائیداد کے لین دین کے نظام میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے فرد برائے بیع اور روایتی دستاویزات کے اجرا پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ ملکیتی فرد برائے ریکارڈ حسبِ سابق جاری رہے گی۔

یکم جولائی سے پنجاب بھر میں زمین و جائیداد کی خرید و فروخت اور دیگر تمام لین دین کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا حصول لازمی ہوگا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کی تمام تحصیلوں میں ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لیے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پلرا) کے سروئیر تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار بھی پلرا کے سروئیرز کو دے دیا گیا ہے۔ ہر تحصیل میں پانچ سروئیر تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ لاہور کی دس تحصیلوں میں مجموعی طور پر پچاس سروئیرز خدمات انجام دیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے سروئیر کی رپورٹ بنیادی اہمیت رکھے گی۔ سروے مکمل ہونے کے بعد آن لائن 15 روزہ اعتراضی نوٹس جاری کیا جائے گا، اور اگر اس دوران کوئی اعتراض سامنے نہ آیا تو ملکیتی جائیداد کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے ذریعے جائیداد کی ملکیت اور قبضے کی تصدیق یقینی بنائی جائے گی، جس سے جائیداد کے لین دین میں فراڈ، جعلسازی اور تنازعات کے امکانات میں نمایاں کمی آئے گی۔ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے حصول کی فیس 950 روپے مقرر کی گئی ہے۔ چیئرمین پلرا کے مطابق جن موضع جات کا ریکارڈ تاحال ڈیجیٹلائز نہیں ہوا، وہاں آئندہ دو ماہ تک فرد برائے بیع جاری رہے گی، جبکہ بعض موضع جات کو اگست تک ڈیجیٹلائزیشن مکمل کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہری پنجاب بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔