اٹلی پاکستان کو 6.3 ارب روپے قرض دے گا، معاہدے پر دستخط

06-29-2026

(ویب ڈیسک) پاکستان اور اٹلی کے درمیان 20 ملین یورو (6.3 ارب روپے) کے رعایتی قرضے کے معاہدے پر دستخط ہوگئے۔

وزارت اقتصادی امور کے سیکریٹری محمد حمیر کریم اور اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے معاہدے پر دستخط کیے، منصوبے کے تحت پاکستان کے تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے نظام کو زرعی شعبے میں مضبوط بنایا جائے گا۔ وزارت اقتصادی امور کے مطابق جدید اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگراموں سے کسانوں اور توسیعی عملے کی استعداد کار بڑھائی جائے گی، پروگرام کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، پائیدار زرعی طریقے اور دیہی عوام کے معاشی حالات کو بہتر بنانا ہے۔ ترجمان کے مطابق اعلیٰ اقدار کی حامل زرعی فصلوں کی ترقی اور زرعی و غذائی ویلیو چینز کو مضبوط بنایا جائے گا، باغبانی کی پیداوار، پراسیسنگ اور مارکیٹنگ سے وابستہ افراد کے لیے خصوصی تربیتی مراکز قائم ہوں گے، منصوبے کے تحت زیتون، پستہ، کھجور، مشروم، چیری، انگور، آڑو اور بادام جیسی فصلوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق جدید اطالوی زرعی مہارت اور پاکستان کی وسیع زرعی استعداد سے فائدہ اٹھایا جائے گا، 42 ماہ پر مشتمل اس پروگرام کے دوران مجموعی طور پر 720 تربیتی کورسز منعقد کیے جائیں گے، ان تربیتی کورسز سے 18,398 افراد مستفید ہوں گے، منصوبے کے تحت زراعت کے شعبے کے لیے 11 معیاری تربیتی نصاب بھی تیار کیے جائیں گے۔ وزارت اقتصادی امور کے مطابق 12 ماڈل باغات اور نرسریاں قائم کی جائیں گی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ 8 ماحول دوست دیہات بنائے جائیں گے، 5 زرعی و غذائی پراسیسنگ یونٹس اور 2 قومی مراکزِ امتیاز قائم ہوں گے، سرگودھا میں کینو و مالٹے اور تربت میں کھجور کی پیداوار کے لیے قومی مراکزِ امتیاز بنیں گے، صوبائی محکمہ زراعت کے تعاون سے پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ اس منصوبے پر عملدرآمد کرے گا۔ ترجمان کے مطابق منصوبے سے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے،  کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، پروگرام کے باعث پوسٹ ہارویسٹ نقصانات میں کمی آئے گی۔