پرو ہاکی لیگ میں مایوس کن کارکردگی، ملکی ہاکی کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کا فیصلہ

06-29-2026

(لاہورنیوز) ایف آئی ایچ پرو ہاکی لیگ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ملکی ہاکی کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

پی ایچ ایف کے صدر محی الدین وانی کا کہنا ہے کہ مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان کی ہاکی ٹیم کے لیے غیر ملکی کوچز اور ہائی پرفارمنس فٹنس ٹرینرز پر مشتمل پینل کو پاکستان لایا جا رہا ہے۔ محی الدین وانی نے کہا کہ پرو لیگ میں کھلاڑیوں کی فٹنس، جدید کھیل کی سمجھ بوجھ اور حکمت عملی کی شدید کمی نظر آئی، کھیل کی بہتری کیلئے سخت ترین اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقتی حل یا عارضی فیصلوں کا وقت ختم ہو چکا ہے، قومی ٹیم میں سلیکشن اور سینٹرل کونٹریکٹس کو کارکردگی، فٹنس اور ڈسپلن سے جوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنا اور 2028 اولمپکس کے لیے براہِ راست کوالیفائی کرنا بڑا ہدف قرار دیا ہے، غیر ملکی کوچز آئندہ دو ہفتوں میں پاکستان پہنچنا شروع کریں گے، کھلاڑیوں کی فٹنس، ذہنی مضبوطی اور دباؤ میں بہتر فیصلوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ پی ایچ ایف کے صدر نے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل محدود وقت ہے فوری نتائج کے بجائے ایشین گیمز پر فوکس کریں گے علاوہ ازیں قومی ٹیم کے کپتان عماد بٹ کی قیادت پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ پرو لیگ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد کپتان کی کارکردگی جانچنے کے لیے دو رکنی کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ بھی کیا گیا ہے، کمیٹی جائزہ لے گی کہ کپتان نے ٹیم کی قیادت کی یا صرف اپنی انفرادی کارکردگی پر توجہ دی۔ دوسری جانب قومی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ کا کہنا ہے کہ، پرو لیگ کے نتائج ہمارے حق میں نہیں آئے اس پر میں پوری قوم سے معذرت خواہ ہوں۔ عماد بٹ نے کہا کہ ایسا نہیں کہ ہم نے کوشش نہیں کی ہم پوری صلاحیت کے مطابق بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کی، ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے شکست کا بوجھ دل پر لے کر سونا آسان نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ میں پاکستان ہاکی ٹیم کا بدترین اور مایوس کن سفر رہا، پاکستانی ٹیم آخری میچ میں بھی ناکام ہوئی۔ اس شکست کے ساتھ ہی پاکستان ہاکی ٹیم کو پرو لیگ کے تمام 16 میچز میں ناکامی کا بوجھ اٹھانا پڑا۔