مونس الٰہی کی جائیداد منجمد کرنے کیخلاف درخواست، وکیل کی عدم موجودگی پر عدالت برہم

06-29-2026

(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں قیصرہ الٰہی کی مونس الہیٰ کی جائیداد منجمد کرنے اور اشتہاری قرار دینے کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت کی، عدالت کا سینئر وکیل کے پیش نہ ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت غلط بات ہے، بار معاملات کی وجہ سے عدالتی کارروائی کیسے رکے گی؟ درخواست گزار ایک اشتہاری ملزم کی جگہ پر درخواست دائر کرسکتا ہے؟

  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کیس کی سماعت کی، قیصرہ الٰہی نے اپنے بیٹے مونس الہیٰ کی جانب سے درخواست دائر کر رکھی ہے۔ دوران سماعت نیب کی جانب سے وارث علی جنجوعہ اور فاطمہ شاہد ایڈووکیٹ پیش ہوئے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بیٹا بیرون ملک میں مقیم ہے اس پر بے بنیاد مقدمات بنائے گئے، نیب عدالت میں بیٹے کی جائیدادیں منجمد کرنے کے خلاف درخواست دائر کی، نیب عدالت نے درخواست کو مسترد کردیا۔ درخواست میں استدعا کی گی کہ عدالت مونس الہیٰ کے اثاثے منجمد کرنے اور اشتہاری قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ دوران سماعت ایسوسی ایٹ وکیل نے بتایا کہ سینئر وکیل اسلام آباد میں مصروف ہیں، عدالت سماعت ملتوی کرے، جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وکیل کو کہا کہ آپ یہاں کس انداز میں کھڑے ہیں، کیا پکننک پر آئے ہیں یا ریسٹ کرنے آئے ہیں، آپ اپنے دلائل کا آغاز کریں فائل کے مطابق آپ بھی سینئر ہیں، کاز لسٹ پیش کریں، عامر سعید راں کس عدالت میں مصروف ہیں۔ جس پر ایسوسی ایٹ وکیل نے کہا کہ عامر سعید راں پاکستان بار کونسل میں مصروف ہیں، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ یہ تو بہت غلط بات ہے، بار معاملات کی وجہ سے عدالتی کارروائی کیسے رکے گی؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ درخواست گزار اس کیس میں ملزم ہے؟ وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار ملزم کی والدہ ہے، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار ایک اشتہاری ملزم کی جگہ پر درخواست دائر کرسکتا ہے، اشتہاری ملزم کے حقوق کے حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں، آپ بتا دیں کہ آج تک کسی اشتہاری ملزم کو یہ سہولت ملی ہے جو آپ درخواست کے ذریعے مانگ رہے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ سینئر وکیل اس کیس میں دلائل دیں گے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کنڈکٹ کی وجہ سے عدالتوں میں زیر التوا کیسز کا بوجھ بڑھ رہا ہے، عدالت نے کارروائی کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔