محرم: پنجاب میں نیا انتظامی و سکیورٹی ماڈل، جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال

06-25-2026

(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں مجالس اور جلوسوں کی سکیورٹی، سہولت اور نگرانی کے لیے گزشتہ 8 روز سے فول پروف انتظامات جاری ہیں۔

عزادارانِ اہل بیتؑ کی خدمت، تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے پنجاب کی پوری انتظامی مشینری، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ محکمے ہائی الرٹ ہیں۔ رواں سال پنجاب میں محرم الحرام کے لیے ایک نیا انتظامی و سکیورٹی ماڈل متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت "کمانڈ اینڈ کنٹرول" کے ساتھ "کیئر اینڈ پروٹیکشن" کے تصور کو بھی عملی شکل دی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ محرم الحرام کے سکیورٹی اور انتظامی امور میں جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار سرکاری سطح پر عزاداران اہل بیتؑ کو شدید گرمی اور حبس سے بچانے کے لیے انوائرمنٹل پروٹیکشن اتھارٹی کی اینٹی سموگ گنز کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر صوبے بھر میں خصوصی سپرنکلرز کے ذریعے بھی پانی کا چھڑکاؤ جاری ہے۔ مختلف اضلاع میں تعینات اینٹی سموگ گنز کو عزاداروں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر جلوسوں کے روٹس پر ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی سبیلوں کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کلینک آن ویلز، فیلڈ ہسپتال، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور رضاکار بھی عزاداران اہل بیتؑ کی خدمت کے لیے ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ جلوسوں کے راستوں اور امام بارگاہوں کی صفائی کے لیے ستھرا پنجاب پروگرام کے عملے کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ خوشگوار ماحول کے لیے مجالس اور جلوسوں کے راستوں پر خوشبو کے استعمال کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ تمام 4 ہزار 836 امام بارگاہوں کو QR کوڈ سسٹم سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ QR ٹیکنالوجی کی مدد سے صوبے بھر کی امام بارگاہیں ایک کلک پر پنجاب حکومت سے معاونت حاصل کر سکیں گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے منتظمین مجالس سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر QR کوڈ ڈاؤن لوڈ کریں۔ محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں تھری ٹیئر (تین سطحی) سکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ایک لاکھ 25 ہزار 641 پولیس اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پاک فوج کی 61 اور رینجرز کی 76 کمپنیاں طلب کی گئی ہیں۔ امن و امان کے قیام میں معاونت کے لیے 30 ہزار 445 تربیت یافتہ رضاکار بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف محرم الحرام کے انتظامات کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہیں جبکہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں۔ نفرت، شرانگیزی اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر کی نگرانی اور تدارک کے لیے نیا قائم کردہ سائبر پیٹرولنگ یونٹ بھی فعال ہے۔ پنجاب بھر میں نفرت انگیز، منفی اور فرقہ وارانہ سوشل میڈیا مواد کو بلاک کیا جا رہا ہے۔ اب تک 6 ہزار سے زائد قابل اعتراض سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مواد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔ پنجاب کی پوری کابینہ اور وزراء عزاداران اہل بیتؑ کی خدمت کے لیے فیلڈ میں موجود ہیں۔ صوبائی وزراء انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جلوسوں کے راستوں کی کلیئرنس اور انتظامات کی نگرانی کے لیے سرپرائز وزٹ بھی کر رہے ہیں۔ محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات کے لیے پنجاب پولیس کے ایک لاکھ 24 ہزار جوان فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ نیٹ ورک کی بندش کی صورت میں رابطوں اور کوآرڈینیشن کو برقرار رکھنے کے لیے پنجاب حکومت نے اپنا LTE نیٹ ورک بھی لانچ کر دیا ہے۔ صوبائی اور ضلعی کنٹرول یونٹس ہائی الرٹ ہیں جبکہ لائیو اور جیو ٹیگڈ ویڈیو مانیٹرنگ جاری ہے۔ محکمہ داخلہ میں قائم پروونشل انٹیلیجنس سینٹر کی ڈیجیٹل وال پر تمام جلوسوں اور مجالس کی لائیو CCTV مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی مانیٹرنگ کے لیے صوبے بھر میں 5 ہزار 623 سے زائد CCTV کیمرے فعال ہیں جبکہ میدانی حالات پر نظر رکھنے کے لیے 1040 باڈی کیمز اور جدید ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حساس ترین مقامات پر ایک ہزار سے زائد جدید 4G ایونٹ کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں اب تک 43 ٹارگٹڈ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے جا چکے ہیں۔ محرم الحرام کے دوران مروجہ اور لائسنس یافتہ جلوسوں کے علاوہ کسی نئے جلوس یا روٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔ پنجاب بھر کی مجالس کی لوکیشنز اور کیٹیگریز کا ڈیجیٹل نقشہ مرتب کیا گیا ہے۔ ہم آہنگی اور امن و امان کے فروغ کے لیے پنجاب حکومت اور اتحاد بین المسلمین کے درمیان ہاٹ لائن رابطہ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ پنجاب بھر کی مجالس اور جلوسوں کا ڈویژن اور ضلع وار ڈیٹا مرتب کر لیا گیا ہے جبکہ پروونشل کنٹرول روم کو ہر ضلع سے براہ راست منسلک کر دیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں جلوسوں، مجالس اور حساس مقامات کی سیف سٹی اور پرائیویٹ کیمروں کے ذریعے ریئل ٹائم مانیٹرنگ جاری ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب میں مجموعی امن و امان کی مسلسل نگرانی کے لیے صوبائی کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال رہے گا۔ سکیورٹی کو فول پروف بنانے اور غیر مجاز فضائی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے صوبے میں ڈرونز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ڈیٹا مینجمنٹ کو مؤثر بنانے کے لیے PITB کے تعاون سے محرم ای پورٹل کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ جلوسوں کے روٹس پر چھتوں پر کھڑے ہونے اور اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال، وال چاکنگ اور اشتعال انگیز تقاریر پر سخت پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اشتعال انگیز گفتگو اور وال چاکنگ کے تدارک کے لیے 794 علما کی زبان بندی اور 1418 افراد کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ 9 اور 10 محرم الحرام کو صوبے بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی۔ صوبائی کابینہ کمیٹی برائے امن و امان پنجاب کے تمام 9 ڈویژنز کے دورے کر چکی ہے جبکہ امن کمیٹیوں کے تحت نچلی سطح پر ایک ہزار 220 کوآرڈینیشن میٹنگز منعقد کی جا چکی ہیں۔ جلوسوں کے روٹس اور داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی جاری ہے جبکہ مشکوک افراد اور سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ جلوسوں کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کیے گئے ہیں۔ محرم الحرام کے دوران پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 47 ہزار 280 مجالس اور جلوس منعقد ہوں گے جن میں 37 ہزار 868 مجالس اور 9 ہزار 412 جلوس شامل ہیں۔