لاہور ہائیکورٹ نے منگلا ڈیم متاثرین کیس میں بڑا فیصلہ سنا دیا
06-24-2026
(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے منگلا ڈیم متاثرین کیس میں بڑا فیصلہ سنا دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے بورڈ آف ریونیو کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملے پر چار ماہ میں دوبارہ فیصلے کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کہا کہ جب تک اس معاملے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا درخواست گزاروں کو ان کی ملکیتی زمین سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزاران کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار منگلا ڈیم سے متاثرہ افراد ہیں، واپڈا نے سرکاری زمین کی خریداری کا سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس کے تحت زمین کی مکمل قیمت ادا کر دی گئی۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں نے ملکیت کے انتقال کے لیے ڈسٹرکٹ کلکٹر وہاڑی سے رجوع کیا تاہم ان کی درخواست مسترد کر دی گئی، وکیل کے مطابق ہائیکورٹ نے 1999 کے حکم کے ذریعے معاملہ دوبارہ بورڈ آف ریونیو کو بھجوا دیا۔ عدالت کے مطابق اس کیس میں دو اہم نکات کی نشاندہی کی گئی جن پر بورڈ آف ریونیو نے نظرثانی درخواست مسترد کرتے وقت غور نہیں کیا، بورڈ آف ریونیو کو معاملہ واپس بھیجنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ 59 متاثرین کو پہلے ہی ملکیتی حقوق دیئے جا چکے تھے، فیصلے کے مطابق دوسرا اہم نکتہ گورنر مغربی پاکستان نے ممنوعہ زون میں زمین کی الاٹمنٹ پر پابندی میں نرمی کر دی تھی۔ عدالتی تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بورڈ آف ریونیو نے 2017 کو جو حکم دیا اس میں دونوں نکات پر کوئی غور یا بحث نہیں کی گئی، سرکاری وکیل کےمطابق زمین ممنوعہ زون میں ہونے کے باعث درخواست گزار ملکیتی حقوق کے حقدار نہیں۔ عدالت کے مطابق ڈائریکٹر جنرل نے درخواست گزاروں کو متبادل زمین دینے کی پیشکش کی لیکن درخواست گزاروں نے بلاوجہ پیشکش قبول نہیں کی لہٰذا وہ کسی ریلیف کے مستحق نہیں۔ عدالت نے بورڈ آف ریونیو کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملے پر چار ماہ میں دوبارہ فیصلے کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ جب تک اس معاملے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا درخواست گزاروں کو ان کی ملکیتی زمین سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔