قومی اسمبلی: فنانس بل منظور، اپوزیشن کی ترامیم مسترد
06-23-2026
(لاہور نیوز) قومی اسمبلی نے فنانس بل کثرت رائے سے منظور کر لیا اور اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دیں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایوان میں موجود تھے۔ اجلاس میں فنانس بل 2026/27 پیش کیا گیا، جس کی منظوری کے ساتھ ہی آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور ہونے کی راہ ہموار ہو گئی، کل ضمنی گرانٹس کی منظوری دی جائے گی جبکہ وزیر خزانہ کی تحریک پر ایوان کا معمول کا ایجنڈا معطل کر دیا گیا۔ فنانس بل پر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی گئی اور اپوزیشن کی جانب سے ترامیم پیش کرنے کا عمل جاری رہا، وزیر خزانہ نے رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران کی ترامیم کی مخالفت کی تاہم سپیکر نے اپوزیشن کو مختصر بحث کی اجازت دے دی۔ بل کے مطابق نئے مالی سال میں مختلف شعبوں میں ٹیکس اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، انکم ٹیکس سلیب میں سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو استثنیٰ دینے کی تجویز ہے جبکہ مختلف آمدنی کے سلیبز پر 1 فیصد سے 35 فیصد تک ٹیکس شرحیں مقرر کی گئی ہیں، سوشل میڈیا اور آن لائن آمدن، بشمول یوٹیوب آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی حکومت کے اڑھائی سال پورے ہونے کو ہیں، اب ہمیں اپنا ٹون بدلنا ہوگا، جس انداز میں بحیثیت سپیکر آپ نے اس ہاؤس کو چلایا باوجود اس کے کہ آپ کا تجربہ تھا، آپ نے نہ آئین و قانون کا خیال رکھا اور چابک دستی سے اپنے 14 کولیگز کو اسمبلی سے فارغ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کوٹ لکھپت کے قیدی سارے ستر سال سے اوپر تھے، کچھ تو خدا کا خوف کریں، آپ نے ریکارڈ قائم کیا، 5 لوگوں کو آپ نے 286 سال قید کی سزا دی ہے، آپ نے ماہ رنگ بلوچ کو بھی عمر بھر کی جیل دے دی، آپ نے آئین روندنے میں غیر جمہوری حکومتوں کا ساتھ دیا۔ انہوں نےکہا کہ چیخ رہے تھے کشمیری، کل وفد آیا تھا چیخ رہے تھے کشمیری کہ ہمارے پاس آٹا نہیں کچھ نہیں، اس دن بات کی شہباز بھائی سے، جس انداز میں انہوں نے بات کی تھی مجھے مزہ نہیں آیا تھا، آپ کے پاس ٹائم تھوڑا ہے ارد گرد جو ہمارے علاقے میں ہو رہا ہے وہ بہت بڑی بربادی ہے۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ میرے بھائی نے کہا تھا پاکستان ہے تو ہم ہیں، بالکل ٹھیک کہا تھا شہباز بھائی پاکستان کوئی آسمان میں نہیں ہے، پاکستان مطلب بلوچستان سندھ خیبرپختونخوا پنجاب،آپ خیبرپختونخوا کو کیوں پاکستان نہیں سمجھتے، ہم سب نے حلف لیا ہے کہ ہم آئین پاکستان کی حفاظت کریں گے، آپ نے اپنے ووٹ کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹے ہیں۔ اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف ایوان میں پہنچ گئے، حکومتی ارکان نے ڈیسک بجاکر استقبال کیا، وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور دیگر اپوزیشن ارکان کی نشستوں پر جاکر ہاتھ ملایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ایران کے صدر پاکستان تشریف لا رہے ہیں، آج ان کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیاں تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لئے گفتگو ہوگی، آج کا دن اختلافی معاملات اٹھانے کا دن نہیں تھا، اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی وہ حقائق کے خلاف ہے، کہ یہ غیر قانونی حکومت ہے۔ ان کا کہنا تھا 2018 کے الیکشن کی تحقیقات کر لیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے، اس میں اگر جادوگری نہیں ہوئی اور بکسے نہیں بھرے گئے، اگر وہ جائز حکومت ہے تو یہ بھی جائز حکومت ہے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے مختلف ترامیم پیش کیں اور بعض معاشی فیصلوں پر اعتراضات بھی اٹھائے تاہم بل کی منظوری کا عمل جاری رہا۔