سکولوں کے فنڈز میں مالی بے ضابطگیوں کے بعد اہم فیصلے

06-23-2026

(لاہور نیوز) پنجاب حکومت نے سکولوں کے لیے جاری کردہ کروڑوں روپے کے فنڈز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد اہم انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے 15 ہزار پرائمری اور مڈل سکولوں کو براہ راست مالی اختیارات منتقل کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے تحت ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (ڈپٹی ڈی ای اوز) سے سکولوں کے بجٹ اور مالی امور سے متعلق اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔ اس سے قبل سکولوں کے بجٹ، فنڈز اور دیگر مالی معاملات ڈپٹی ڈی ای اوز کے ذریعے چلائے جاتے تھے۔ نئے نظام کے تحت اساتذہ کی تنخواہوں اور بجٹ کی دیگر رقوم اب ڈپٹی ڈی ای اوز کے بجائے براہ راست متعلقہ سکولوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی، جس سے مالی معاملات میں شفافیت اور خودمختاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں نان سیلری بجٹ خرچ کرنے کے لیے سکول سربراہان کو ڈپٹی ڈی ای اوز سے منظوری لینا پڑتی تھی۔ متعدد سکول سربراہان کی جانب سے شکایات سامنے آئی تھیں کہ بعض مواقع پر منظوری کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی تھی۔ ذرائع کے مطابق یہ بھی الزامات سامنے آئے کہ بعض ڈپٹی ڈی ای اوز مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کیے بغیر فنڈز کے اجرا یا اخراجات کی منظوری نہیں دیتے تھے، جس کے باعث سکولوں کے انتظامی اور تعلیمی امور متاثر ہوتے تھے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مقصد فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا، انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنا اور سکولوں کو مالی طور پر زیادہ بااختیار بنانا ہے۔