یکم جولائی سے پنجاب بھر میں روایتی پراپرٹی فرد کے اجراء کا عمل بند کرنے کا فیصلہ

06-22-2026

(لاہور نیوز) یکم جولائی 2026 سے پنجاب بھر میں روایتی پراپرٹی فرد کے اجراء کا عمل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بورڈ آف ریونیو پنجاب نے فرد کے اجراء کی معطلی اور گرین سرٹیفکیٹ کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، صوبے بھر میں اراضی کے لین دین کیلئے اب روایتی فرد کے بجائے گرین سرٹیفیکیٹ کو بنیادی دستاویز قرار دے دیا گیا، یکم جولائی کے بعد بیشتر اضلاع میں جائیداد کی خرید و فروخت اور انتقالات گرین سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر انجام دیے جائیں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر کے تمام اضلاع میں فرد کے اجراء پر پابندی عائد کر دی گئی، ساہیوال، لودھراں اور حافظ آباد کو ابتدائی مرحلے میں نئی پابندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔ تین اضلاع کے علاوہ پورے پنجاب میں پراپرٹی لین دین کیلئے گرین سرٹیفیکیٹ لازمی دستاویز ہوگا۔ گرین سرٹیفکیٹ کا اجرا پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی مینجمنٹ آف ریکارڈ ریگولیشنز 2025 کے تحت کیا جائے گا۔ نئی پالیسی کا مقصد اراضی ریکارڈ کے نظام کو مزید شفاف، محفوظ اور ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ گرین سرٹیفکیٹ کے ذریعے جائیداد کی ملکیت اور ریکارڈ کی تصدیق کا جدید اور مؤثر نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اراضی ریکارڈ میں جعلسازی، دوہرے ریکارڈ اور دستاویزات میں ردوبدل کے امکانات کم کرنے کیلئے نیا نظام نافذ کیا جا رہا ہے جبکہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے تحت زمینوں کے ریکارڈ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کا عمل تیز کیا گیا۔ نئی پالیسی کے نفاذ سے جائیداد کے لین دین میں شفافیت، قانونی تحفظ اور عوامی سہولت میں مزید بہتری متوقع ہے۔ بورڈ آف ریونیو کے مطابق گرین سرٹیفکیٹ اراضی کی ملکیت اور ریکارڈ کی مستند ڈیجیٹل تصدیق فراہم کرے گا۔ پراپرٹی سیکٹر میں جدید ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت لینڈ ریکارڈ سسٹم کو مرحلہ وار مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔