سرکاری سکولوں کو مالی طور پر خودمختار بنانے کیلئے جامع منصوبہ تیار
06-20-2026
(ویب ڈیسک) محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے سرکاری سکولوں کو مالی طور پر خودمختار بنانے اور اضافی آمدن پیدا کرنے کیلئے ایک نیا اور جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم نے سکولوں کیلئے اضافی آمدن کے 13 مختلف آپشنز تجویز کئے ہیں، جن کے ذریعے تعلیمی اداروں کو مالی طور پر مستحکم بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت سکولوں کی بیرونی دیواروں پر برانڈنگ، فلیکس بورڈز، بل بورڈز اور ہورڈنگز لگانے کی اجازت دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے اشتہاری آمدن حاصل کی جا سکے گی۔ اسی طرح سکولوں کی اضافی جگہوں پر مارکیٹس، دکانیں اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کے آغاز کا آپشن بھی شامل ہے، مجوزہ منصوبے میں موبائل فون کمپنیوں کو سکولوں میں ٹیلی کام ٹاورز نصب کرنے کی پیشکش اور سکولوں کی چھتوں و خالی زمین پر سولر انرجی منصوبے لگانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ سکول گراؤنڈز اور ہالز کو تقریبات اور کھیلوں کیلئے کرائے پر دینے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پیڈل، کرکٹ اور جم سہولیات قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق سکولوں کی لیبارٹریاں اور کمپیوٹر رومز نجی اداروں کو کرائے پر دینے کا آپشن بھی زیر غور ہے، جبکہ دیہی علاقوں کے سکولوں کی زرعی زمین کو لیز پر دینے اور اضافی زمین پر نرسری و ہارٹیکلچر یونٹس قائم کرنے کی بھی تجویز شامل ہے۔ اسی طرح خالی عمارتوں کو ہاسٹل، سرائے یا رہائشی سہولت کے طور پر استعمال کرنے اور سکولوں کے داخلی راستوں کے قریب پبلک ٹوائلٹ کی سہولت قائم کرنے کا پلان بھی زیر غور ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق ان اقدامات کا مقصد سکولوں کو مالی طور پر خودمختار بنانا اور غیر استعمال شدہ اثاثوں سے اضافی آمدن حاصل کرنا ہے، جبکہ پنجاب میں جدید فنانسنگ ماڈل متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔