مومنہ اقبال نے ناصر مدنی کو قانونی نوٹس بھجوا دیا، معافی کا مطالبہ

06-17-2026

(ویب ڈیسک)اداکارہ مومنہ اقبال اور مذہبی اسکالر ناصر مدنی کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کرگیا۔ اداکارہ نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ عدنان احسان خان کے ذریعے ناصر مدنی کو قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے مبینہ ہتک آمیز بیانات پر وضاحت، معذرت اور متعلقہ مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ناصر مدنی کی جانب سے مومنہ اقبال کے بارے میں دیے گئے بعض بیانات ان کی ساکھ، عزت اور پیشہ ورانہ زندگی کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے ہیں۔ نوٹس کے مطابق یہ ریمارکس ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں، لہٰذا فوری طور پر ان کی تردید کی جائے اور عوامی سطح پر معافی مانگی جائے۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو اداکارہ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔   یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مومنہ اقبال پہلے ہی مختلف قانونی تنازعات اور ہراسانی سے متعلق مقدمات کے باعث خبروں میں ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں انہوں نے پنجاب اسمبلی کے رکن ثاقب چدھڑ کے خلاف مبینہ سائبر ہراسانی، دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے الزامات پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ ’’میں آپ کو معاف نہیں کروں گی‘‘     قانونی نوٹس جاری ہونے سے قبل مومنہ اقبال نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے ناصر مدنی کے بیانات پر شدید ردعمل دیا تھا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ ناصر مدنی نے منبر پر بیٹھ کر ان پر لگائے گئے الزامات اور تہمتوں کو مزید ہوا دی۔ مومنہ اقبال نے لکھا تھا کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کی عدالتوں میں سرخرو ہوں گی، کیونکہ ان پر لگائے گئے الزامات کی حقیقت وہ خود اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ وہ ناصر مدنی کو معاف نہیں کریں گی۔ اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ اسلام میں بغیر ثبوت کسی پر الزام لگانا اور اس کی عزت کو نقصان پہنچانا سنگین گناہ ہے۔ انہوں نے سورۂ نور کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہر بات کا حساب ہونا ہے اور انصاف ضرور ہوگا۔ شوبز اور سوشل میڈیا حلقوں میں اس تنازع پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جبکہ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ناصر مدنی اس قانونی نوٹس کا کیا جواب دیتے ہیں۔