ہانیہ قتل کیس:لاہور ہائیکورٹ کا سی سی ڈی کیخلاف تحقیقات کی درخواست لگانے کا حکم

06-17-2026

لاہور:(محمداشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے چکوال میں 9 سالہ ہانیہ احمد قتل کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے دائر درخواست کو سی سی ڈی کے خلاف زیرِ سماعت مرکزی درخواست کے ساتھ مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی متفرق درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ اس کے والد اور کمسن بھائی زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ محض غلطی نہیں بلکہ بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو “لائسنس ٹو کل” نہیں دیا جا سکتا، اس لیے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے اور عدالتی نگرانی میں شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے مزید استدعا کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، وائرلیس ریکارڈ اور اسلحہ سے متعلق شواہد کو محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ اظہر صدیق نے مؤقف اپنایا کہ ہانیہ احمد کیس پاکستان کے انسانی حقوق سے متعلق وعدوں کا امتحان ہے اور سی سی ڈی کے قواعد، تربیت اور نگرانی کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے استفسار کیا کہ درخواست کس بنیاد پر قابلِ سماعت ہے جبکہ واقعہ راولپنڈی بینچ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس پر وکیل نے بتایا کہ درخواست میں سی سی ڈی کی قانونی حیثیت کے تعین کا معاملہ بھی شامل ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کے مؤقف کے بعد متفرق درخواست کو مرکزی کیس کے ساتھ سننے کا فیصلہ کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو دونوں مقدمات ایک ساتھ مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔