پنجاب حکومت کا بجٹ سرپلس، سوشل سیکٹر پر فوکس کیا: عظمیٰ بخاری
06-16-2026
(لاہور نیوز) صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے سرپلس بجٹ پیش کیا، سوشل سیکٹر پر فوکس کیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں بجٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ آج مریم نواز حکومت کا تیسرا بجٹ پیش ہوا، مشکل ترین حالات میں بجٹ پیش کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کی جنگ کی وجہ سے پاکستان بھی متاثر ہوا، گزشتہ برس سیلاب کی وجہ سے مشکلات تھی، اب امن معاہدے پر دستخط ہونے جا رہے ہیں ، آج پاکستان کے لئے بڑا دن ہے، ایک وقت تھا کوئی پاکستانی وزیر اعظم کا فون نہیں اٹھاتا تھا۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آج دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے ، بجٹ میں پنجاب نے قربانی دی ،پنجاب نے ایک خطیر رقم وفاق کو دی ، رقم وفاق کو دینے کی وجہ سے پنجاب کو بجٹ بنانے میں مشکل پیش آئی۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پی آر اے نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا، پی آر اے کا ہدف مزید بڑھایا گیا ہے، پنجاب اپنے ذرائع سے اپنے پراجیکٹس مکمل کرے گا ،اس بجٹ میں سوشل سیکٹر پر فوکس کیا گیا ہے ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یقیناً کمی آئے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ جو مصنوعی مہنگائی آئی یہ بھی ختم ہو جائے گی، گزشتہ دو برس کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے مہنگائی کو بڑھنے نہیں دیا، ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جارہا ہے ، پنجاب اپنے وسائل سے اپنے پراجیکٹس مکمل کرے گا۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو یہ آپشن دیا گیا تھا کہ وہ سیشن میں نہ بھی آئیں تو بجٹ پیش ہوسکتا تھا، ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں، انہوں نے خرابی صحت کے باوجود اجلاس میں شرکت کی۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ملتان کے پاس اپنی میٹرو ہے،1100نئی بسیں آرہی ہیں، اس میں سے ملتان کو بھی دیں گے،علی حیدر کو تعصب کی عینک اتار کر دیکھنا چاہیے، مارکیٹیں جلد بند کرنے کے حوالے سے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب فیصلہ کرلیں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ سیلاب ایک آزمائش تھی، سیلاب میں حکومت نے مزدوروں کی طرح کام کیا،اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتی ہوں، اپوزیشن نے بچوں کی طرح لائن میں بیٹھ کر بجٹ سنا، بجٹ اندازوں اور موجودہ وسائل کے ساتھ پیش کرنا ہوتا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جو ہمارا سر پلس ہے اس کو استعمال کریں گے، اس بار پھر پنجاب حکومت نے سرپلس بجٹ پیش کیا۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے ایران جنگ کے بعد بھی مشکل حالات ہوئے لیکن اللہ کا شکر ہے دونوں ممالک کو ایک ساتھ بیٹھانا ہمارا فخر ہے،جنگ روکنے کا جب بھی زکر ہوگا پاکستان کا نام آئے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں سے مدد مانگی اور ہم نے بھر پور تعاون کیا،560 ارب روپے پنجاب نے دیا، محکمہ پنجاب ریونیو نے 34 فیصد زیادہ ٹیکس اکھٹا کیا، ہم اپنے وسائل سے ترقیاتی بجٹ میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تعلیم ،صحت، زراعت اور سوشل سیکٹر پر توجہ دے رہے ہیں، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے، ٹیکس اکٹھا کرکے ہی پنجاب کا حق ان کی دہلیز تک پہنچائیں گے۔