پنجاب کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 7 پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز

06-16-2026

(لاہورنیوز)پنجاب اسمبلی میں وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے مالی سال 27-2026 کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ ایوان میں پیش کردیا۔

پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی ایوان میں موجود تھیں۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبولؐ اور قومی ترانے سے کیا گیا، اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں داخل ہوتے ہی نعرے بازی شروع کر دی۔ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے قریب، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سامنے جمع ہوگئے اور ’جعلی بجٹ نامنظور، نامنظور‘ کے نعرے لگاتے رہے، جس کے باعث ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ اپوزیشن ارکان نے "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو" کے نعرے لگائے جبکہ ان کے ہاتھوں میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی موجود تھے۔ وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ایران،امریکا امن معاہدہ پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف امن معاہدے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی امن معاہدے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، نواز شریف کی رہنمائی اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مشکل حالات میں ملک کو بحرانوں سے نکالا اور موجودہ بجٹ میں صرف آئندہ کے اہداف نہیں بلکہ گزشتہ سال کی کارکردگی کا حساب بھی شامل ہے۔   کفایت شعاری اور مالی نظم و ضبط وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مالی نظم و ضبط کی پالیسی کے تحت غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی کی۔ صوبائی کابینہ اور سیکرٹریز نے 3 ماہ کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا، جبکہ اراکین اسمبلی کی دو ماہ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی گئی۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد کمی لا کر قومی خزانے کو بچت فراہم کی گئی۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق روزمرہ اخراجات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ مجموعی اخراجات میں صرف 3.1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جسے کفایت شعاری پالیسی کا مثبت نتیجہ قرار دیا گیا۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال 2026-27 سے صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 650 ارب روپے جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی مد میں 505 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے ٹیکس فری بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں کے لیے مجموعی طور پر ایک ہزار 155 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ مختلف محکموں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں مختلف سرکاری محکموں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 25 ارب 35 کروڑ روپے، بورڈ آف ریونیو کے لیے 18 ارب 95 کروڑ روپے، پولیس کے لیے 12 ارب 88 کروڑ روپے، انفارمیشن اینڈ کلچر کے لیے 6 ارب 70 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے 78 ارب 50 کروڑ روپے، عدلیہ کے لیے 3 ارب روپے جبکہ قانون و پارلیمانی امور کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتایا کہ محفوظ پنجاب ویژن کے تحت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے، جدید سہولیات کی فراہمی اور امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے مجموعی طور پر 252 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، تاکہ صوبے میں مؤثر قانون نافذ کرنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔  چیف منسٹر سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، انہوں نے بتایا کہ 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرام شروع کیا گیا، جس سے اب تک 5 ہزار نوجوان مستفید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام میں 26 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ مزید نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔ وزیر خزانہ کے مطابق سی ایم اسکلڈ پنجاب پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اس پروگرام پر ایک ارب 44 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اب تک 2 ہزار 200 افراد اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں میں اضافے، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ سکلز فار گلوبل نیڈز پروگرام وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی فراہمی کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،"اسکلز فار گلوبل نیڈز" پروگرام کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، تعمیرات، صحت اور آٹوموٹیو سمیت 12 بین الاقوامی معیار کے تربیتی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے،اسکلز فار گلوبل نیڈز پروگرام سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر اضافے کی توقع ہے۔ ٹیک سکلز پروگرام وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے فرنٹیئر ٹیک اسکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم اور انکیوبیٹرز کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت فراہم کی جائے گی، 60 لاکھ افراد کو جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انوویٹ پنجاب پروگرام کے تحت 1200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی، ٹیکنالوجی پروگراموں میں خواتین کی شرکت کم از کم 40 فیصد یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،بوٹ کیمپس، آئی ٹی انٹرن شپ اور میکر اسپیسز کے ذریعے 70 ہزار 500 سے زائد نوجوان مستفید ہوں گے، بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کی جائیں گی، پروگرام کے تحت نوجوانوں کی متوقع ماہانہ آمدن ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ لاہور میں سینٹر آف ایکسیلنس فار ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز قائم کیا جائے گا، آٹوموٹیو ٹیکنالوجی سینٹر کے قیام پر 99 کروڑ روپے لاگت آئے گی، سینٹر میں ہر سال 400 افراد کو بین الاقوامی معیار کی فنی تربیت فراہم کی جائے گی، حکومت پنجاب نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، سمارٹ سیف سٹیز پروگرام وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پنجاب میں اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے کے تحت جدید ڈیجیٹل سکیورٹی نظام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے، وزیراعلیٰ اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام کے تحت تحصیل سطح تک نگرانی کے جدید نظام متعارف کرائے جائیں گے، جبکہ ریجنل ڈیٹا سینٹرز اور پی پی آئی سی منصوبوں کے ذریعے جدید سکیورٹی انفراسٹرکچر بھی قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 47 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے سکیورٹی اور نگرانی کے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے، جن کے تحت ڈیٹا اینالیٹکس، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور جدید کیمروں پر مشتمل مربوط نظام کو فروغ دیا جائے گا، ان اقدامات کا مقصد جرائم کی روک تھام، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق سمارٹ سیف سٹیز منصوبوں سے پنجاب کے 19 اضلاع اور متعدد تحصیلیں مستفید ہوں گی، جبکہ جدید نگرانی کے نظام سے صوبے کی بڑی آبادی کو فائدہ پہنچے گا، کچے کے علاقوں میں پولیس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے نئے پولیس اسٹیشنز، پولیس پوسٹس اور پولیس پکٹس کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے۔ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتایا کہ صوبے کے 28 اضلاع میں جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جائیں گے، جن پر 14 ارب 21 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، ان یونٹس کے ذریعے جرائم کے شواہد کا سائنسی بنیادوں پر حصول، تجزیہ، تحفظ، ذخیرہ اور منتقلی بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنائی جائے گی، جس سے تفتیشی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔ ٹرانسپورٹ، ماحولیات اور انفراسٹرکچر مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کے منصوبوں کے لیے 26 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، صوبے بھر کے تحصیل ہیڈکوارٹرز میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 2 ہزار الیکٹرک بسوں کی فراہمی کا منصوبہ بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ریلوے ٹریکس کی بحالی کے لیے 10 ارب روپے جبکہ نہری نظام کی بہتری، آبپاشی کے انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور زرعی شعبے کی معاونت کے لیے 61 ارب 14 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے اعلان کیا کہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں رعایت 95 فیصد سے بڑھا کر 99 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سموگ کے خاتمے کے لیے رواں مالی سال کے دوران 123 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ فضائی آلودگی میں کمی لانے کے لیے پرانی اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی واپسی (اسکریپ) اسکیم بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کسان کارڈ اور سماجی تحفظ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ گرین ٹریکٹر پروگرام کے لیے 16 ارب 90 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری کی فراہمی میں معاونت فراہم کی جا سکے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ کم آمدن والے خاندانوں کی معاونت کے لیے سوشل سیکیورٹی راشن کارڈ پروگرام کے لیے 40 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس کے علاوہ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی تنظیم نو کے لیے 2 ارب روپے، وزیراعلیٰ دھی رانی پروگرام کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے اور بزرگ شہریوں کی فلاح کے لیے عافیت اولڈ ایج ہوم کے قیام کی مد میں 2 ارب 6 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ آئمہ مساجد کی معاونت کے لیے 18 ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جبکہ اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے منیارٹی کارڈ پروگرام کی مد میں 4 ارب روپے رکھنے کی سفارش بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ سرمایہ کاری اور معاشی ترقی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پنجاب کی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو رہی ہے اور صوبے کی افرادی قوت کے ساتھ ساتھ معاشی استعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اکنامک ٹرانسفارمیشن آف پنجاب" منصوبہ صوبے کی معاشی ترقی کے لیے ایک نئے روڈ میپ کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ "گلوبل انویسٹمنٹ اینڈ گیٹ وے آف پنجاب" منصوبے کے ذریعے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے نئی لینڈ لیز پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے، جبکہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو مزید مؤثر بنانے، ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور ریونیو نظام میں بہتری کے لیے اصلاحات بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ کا اہم حصہ ہیں۔