آئی ایم ایف نہیں، ہماری اپنی پالیسیاں اصل مسئلہ ہیں: شاہد خاقان عباسی
06-14-2026
(لاہورنیوز) کنونیئر عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نہیں، ہماری اپنی پالیسیاں اصل مسئلہ ہیں، حکومت وسائل سے زیادہ اخراجات کر رہی ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کا بجٹ بے معنی ہو کر رہ گیا، گزشتہ چار سال پاکستان کی معیشت کیلئے بدترین ثابت ہوئے، حکومت نے بجٹ میں ریلیف نہیں دیا، صرف کچھ پرانے ٹیکس واپس لیے ہیں، نئے بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ہر پاکستانی کو برداشت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی معاملات تشویشناک شکل اختیار کر چکے ہیں، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے، قرض بڑھ رہا ہے مگر معاشی اصلاحات نظر نہیں آ رہیں، سود کی ادائیگیاں ملکی معیشت پر سب سے بڑا بوجھ بن چکی ہیں، معاشی کمزوری قومی سلامتی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نہیں، ہماری اپنی پالیسیاں اصل مسئلہ ہیں، حکومت وسائل سے زیادہ اخراجات کر رہی ہے، رواں سال حکومت اخراجات کیسے پورے کرے گی، وسائل سے زیادہ خرچ کرنے پر اضافی ٹیکس لگانا پڑتا ہے، عوام پر مزید ٹیکس لگانا مسائل کا حل نہیں، قومی وسائل کے ضیاع کو روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ شاہد خان عباسی نے کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے، موجودہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا، وفاقی حکومت کا حجم مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ کنونیئر عوام پاکستان پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ قرض، مہنگائی اور ٹیکسوں کے چکر سے نکلنا ہوگا، جس ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوتا، وہاں سرمایہ کاری بھی نہیں آتی، جو ملک اصلاحات کی بات نہ کرے وہ کیسے چلے گا؟