فیملی ویلفیئر ورکرز سمیت دیگر ملازمین کی ریگولرائزیشن بارے درخواستیں منظور
06-12-2026
لاہور: (محمد اشفاق) لاہو ہائیکورٹ نے محکمہ بہبود آبادی کے کنٹریکٹ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے فیملی ویلفیئر ورکرز سمیت دیگر ملازمین کی ریگولرائزیشن سے متعلق دائر درخواستیں منظور کر لیں، جسٹس جاوید اقبال وینس نے قرار دیا کہ ملازمین کا حقِ ریگولرائزیشن برقرار ہے اور ایکٹ کی منسوخی سے پہلے حاصل شدہ حقوق ختم نہیں ہوتے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جاوید اقبال وینس نے سائلہ فرحت پروین سمیت دیگر ملازمین کی درخواستوں پر 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے سکروٹنی کمیٹی کے 29 مئی 2024 کے منٹس آف میٹنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ کا 28 دسمبر 2024 کا ملازمین کی ریگولرائزیشن مسترد کرنے کا حکم بھی غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ متعلقہ ملازمین پراجیکٹ نہیں بلکہ کنٹریکٹ ملازمین ہیں، اور پراجیکٹ کی نان ڈویلپمنٹ سائیڈ پر منتقلی کے بعد وہ پراجیکٹ ایمپلائز نہیں رہے، مزید کہا گیا کہ 3000 نئی اسامیوں کی تخلیق کے بعد ملازمین کی حیثیت تبدیل ہو چکی ہے، جبکہ وہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملازمین کا حقِ ریگولرائزیشن برقرار ہے اور ایکٹ کی منسوخی سے پہلے حاصل شدہ حقوق ختم نہیں ہوتے، عدالت نے واضح کیا کہ ریپیلنگ ایکٹ ماضی میں حاصل شدہ حقوق کو متاثر نہیں کر سکتا، جبکہ ملازمین 31 اکتوبر 2025 سے قبل اپنی تین سالہ سروس مکمل کر چکے تھے، اس لیے ان کے دعوے کو محض ایکٹ کی منسوخی کی بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محکمہ آبادی بہبود کے ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب محکمہ صحت کے اسی نوعیت کے ملازمین پہلے ہی ریگولرائز ہو چکے ہیں، یکساں حالات میں مختلف سلوک آئین کے منافی ہے۔ عدالت نے بار بار عدالتی احکامات کے باوجود ملازمین کو ریلیف نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کی جانب سے درست عملدرآمد نہ ہونے کے باعث غیر ضروری مقدمہ بازی ہوئی۔ لاہور ہائیکورٹ نے کیس دوبارہ سکروٹنی کمیٹی کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ ملازمین کے کیسز ریگولرائزیشن کیلئے مجاز اتھارٹی کو ارسال کئے جائیں اور تمام کارروائی 90 روز میں مکمل کی جائے۔ عدالت نے فیصلے پر عملدرآمد تک ملازمین کے خلاف کسی بھی منفی کارروائی سے روک دیا اور ان کی خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا حکم دیا، عدالت نے ریگولرائزیشن سے متعلق تمام درخواستیں منظور کر لیں۔