پاکستان میں غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ گئی، 59 لاکھ افراد بے روزگار
06-11-2026
(لاہور نیوز) اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی، جس کا مطلب ہے کہ ہر 100 میں سے تقریباً 29 پاکستانی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی پیمائش کم از کم ضروری اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے، ماہانہ 8 ہزار 483 روپے آمدن رکھنے والا شخص سرکاری معیار کے مطابق غریب شمار نہیں ہوتا جبکہ یہ رقم تقریباً 30.5 امریکی ڈالر کے مساوی بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 17.4 فیصد رہی، صوبوں میں بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جہاں غربت کی شرح 47 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ پنجاب میں سب سے کم 23.3 فیصد غربت ریکارڈ کی گئی، سندھ میں غربت کی شرح 32.6 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 35.3 فیصد رہی۔ اقتصادی سروے کے مطابق 2018-19 کے بعد ملک میں غربت میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مالی سال 2018-19 میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 28.9 فیصد ہو چکی ہے، رپورٹ میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کو لاکھوں افراد کے غربت کی جانب دھکیلے جانے کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک میں معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی شرح 28.4 فیصد سے بڑھ کر 32.7 فیصد ہو گئی ہے، صوبائی سطح پر سندھ میں عدم مساوات سب سے زیادہ 35.9 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ پنجاب میں 32 فیصد، خیبرپختونخوا میں 29.4 فیصد اور بلوچستان میں 26.6 فیصد رہی۔ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس 8 کروڑ 31 لاکھ افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے 7 کروڑ 72 لاکھ افراد برسرِ روزگار ہیں، جبکہ 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران 7 لاکھ 62 ہزار 499 پاکستانی روزگار کے حصول کے لیے بیرونِ ملک گئے، جو ملکی لیبر مارکیٹ پر دباؤ اور بیرونِ ملک ملازمتوں کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔