قومی اقتصادی سروے: صحت پر اخراجات میں کمی، خواندگی میں بہتری
06-11-2026
(لاہور نیوز) قومی اقتصادی سروے کے مطابق صحت کے شعبے پر اخراجات میں کمی کا رجحان برقرار رہا، گزشتہ مالی سال اعشاریہ نو فیصد کے مقابلے میں رواں سال یہ شرح جی ڈی پی کے صرف اعشاریہ 8 فیصد تک محدود رہی۔
سروے کے مطابق ایک سال کے دوران ملک بھر میں 238 نئے ہسپتال قائم کیے گئے جس کے بعد ہسپتالوں کی مجموعی تعداد 1,934 ہوگئی جبکہ بنیادی مراکز صحت کی تعداد میں 312 یونٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ تعداد بڑھ کر 5,746 تک پہنچ گئی۔ اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات 47 بچے فی ہزار رہی جبکہ لوگوں کی اوسط عمر میں اعشاریہ دو فیصد اضافہ ہوا ہے اور پاکستان میں اوسط متوقع عمر 67.8 سال ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں ڈاکٹروں کی تعداد میں 5.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد 3 لاکھ 36 ہزار 582 ہوگئی، سال 2024 میں یہ تعداد 3 لاکھ 19 ہزار 572 تھی۔ اسی طرح رجسٹرڈ ڈینٹسٹس کی تعداد 42 ہزار 118 ریکارڈ کی گئی، ڈینٹسٹس کی تعداد میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا، ملک بھر میں نرسز کی تعداد 1 لاکھ 38 ہزار 391 ہوگئی، رجسٹرڈ دائیوں کی تعداد 46 ہزار 801 تک پہنچ گئی، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد 29 ہزار 163 ریکارڈ کی گئی۔ تعلیم کے شعبے میں بھی مثبت پیش رفت سامنے آئی، ملک میں پڑھے لکھے افراد کی تعداد میں 2 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خواندگی کی شرح 60.6 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی۔ اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں 9 نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں جس کے بعد یونیورسٹیوں کی مجموعی تعداد 278 ہو گئی تاہم 28 فیصد بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں۔