پاکستان اور روس کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ چکے: اویس لغاری
06-09-2026
(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات میں نمایاں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، تجارت، توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بات ’پاکستان۔روس دوطرفہ تعلقات بدلتے ہوئے عالمی نظام کے تناظر میں‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک ویبینار سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سوویت دور سے وابستہ بداعتمادی اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اعلیٰ قیادت نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ عرصے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان چار ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ روس۔پاکستان بین الحکومتی کمیشن (IGC) کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے اویس لغاری نے کہا کہ ان کے روسی ہم منصب اور روس کے وزیر توانائی سرگئی سیویلیف کے ساتھ باقاعدہ رابطے جاری ہیں، بین الحکومتی کمیشن دونوں ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعاون کی بنیاد بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس سلامتی، تزویراتی استحکام، انسداد دہشت گردی اور علاقائی تعاون کے شعبوں میں بھی باقاعدہ مشاورت کر رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک ایک زیادہ متوازن اور کثیر قطبی عالمی نظام کے حق میں مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے علاقائی رابطہ سازی کو پاک۔روس تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) میں شمولیت کا خواہاں ہے، انہوں نے روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک کے اس بیان کا خیرمقدم کیا جس میں گوادر بندرگاہ کو اس راہداری سے منسلک کرنے کی بات کی گئی تھی۔ ان کے مطابق یہ اقدام چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے لیے بھی ایک اہم رابطہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافے اور مالیاتی لین دین کے مسائل کے حل کے لیے روس اور پاکستان نے 2030 تک اقتصادی تعاون کے پروگرام پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے، بشکیک میں حال ہی میں روس۔پاکستان ریڈمیشن معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے ہیں، جس سے ویزا سہولتوں، کاروباری روابط اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں روس کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی فورمز میں اپنی شرکت نمایاں طور پر بڑھائی ہے۔ قازان فورم 2026 میں پاکستان نے اپنے بڑے وفود میں سے ایک وفد بھیجا، جبکہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم اور ماسکو انرجی ویک میں بھی باقاعدگی سے شرکت کی جا رہی ہے۔ خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں بلکہ یوریشیائی اقتصادی انضمام اور خطے کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔